Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

روسی انتخابات میں پیوٹن کی جماعت کی برتری، سائبر حملوں اور یوکرینی ڈرون حملوں کے سائے میں ووٹنگ

روسی انتخابات میں پیوٹن کی جماعت کی برتری، سائبر حملوں اور یوکرینی ڈرون حملوں کے سائے میں ووٹنگ

روس میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمران جماعت یونائیٹڈ رشیا واضح برتری حاصل کرکے اقتدار برقرار رکھنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے یہ انتخابات 2022 میں یوکرین کے خلاف مکمل جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں
روس کی سرکاری انتخابی معلومات کے مطابق 71 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد یونائیٹڈ رشیا کو 57.5 فیصد ووٹ ملے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی 14 فیصد اور ایل ڈی پی آر 8.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہی ان نتائج کی بنیاد پر یونائیٹڈ رشیا 450 نشستوں پر مشتمل ریاستی ڈوما میں دو تہائی اکثریت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے
یہ انتخابات ایسے ماحول میں ہوئے جب جنگ مخالف سیاسی قوتوں کی انتخابی شرکت محدود رہی روس کی سپریم کورٹ نے جنگ کی مخالفت کرنے والی لبرل جماعت یابلوکو کو وفاقی فہرست میں حصہ لینے سے روک دیا تھا، جبکہ اس جماعت کے بعض امیدواروں کو انفرادی حلقوں میں الیکشن لڑنے کی اجازت رہی روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ کرائی گئی
انتخابات کے آخری روز ماسکو اور اس کے گردونواح پر یوکرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے بھی کیے گئے روسی حکام کے مطابق ان حملوں میں 2 افراد ہلاک ہوئے اور ماسکو کی ایک آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا۔ روسی حکام نے حملوں کو انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے یوکرین کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کی دھمکی دی
انتخابی عمل کو سائبر حملوں کا بھی سامنا رہا روسی مرکزی انتخابی کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا کے مطابق انتخابی نظام سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر ایک ہزار سے زیادہ ڈی ڈوس حملوں کی لہریں ریکارڈ کی گئیں انہوں نے حملوں کے ذمہ داروں کا نام نہیں بتایا، تاہم دعویٰ کیا کہ حملہ آور جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے والے منظم گروہ تھے
صدر پیوٹن نے انتخابات سے قبل روسی عوام سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے اسے یوکرین جنگ میں روسی فوجیوں کی حمایت کے اظہار سے جوڑا تھا اپوزیشن حلقوں اور بعض بیرون ملک مقیم مخالفین نے انتخابی عمل کو محدود اور غیر مسابقتی قرار دیا ہے، جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ مجموعی طور پر معمول کے مطابق جاری رہی

قومی خبریں سے مزید