پاکستان کی بڑی کمپنیاں عالمی سطح پر کیوں نہیں پہنچ رہیں؟
پاکستان میں کئی کاروباری خاندانوں نے ٹیکسٹائل، سیمنٹ، کھاد، ادویات، گاڑیوں، بینکاری، جائیداد اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں بڑے کاروبار قائم کیے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم پاکستانی کمپنیاں ایسی ہیں جو برطانیہ، یورپ یا شمالی امریکہ میں جا کر بڑے کاروبار خرید سکیں، اپنی فیکٹریاں قائم کریں یا عالمی سطح کے برانڈز بنائیں
پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات، چاول اور چمڑے کی مصنوعات اہم ہیں، لیکن بیرون ملک مصنوعات فروخت کرنا اور بیرون ملک ایک مکمل کاروباری ادارہ قائم کرنا 2 مختلف چیزیں ہیں عالمی سطح پر کامیاب کمپنی بننے کے لیے صرف مصنوعات برآمد کرنا کافی نہیں بلکہ سرمایہ، برانڈ، ٹیکنالوجی، دانشورانہ ملکیت اور انتظامی صلاحیت بھی بیرون ملک لے جانا پڑتی ہے
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان سے بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری صرف 153 ملین ڈالر رہی، جبکہ اسی سال پاکستان میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 2.57 ارب ڈالر تھی یعنی پاکستان میں آنے والی بیرونی سرمایہ کاری، پاکستان سے باہر جانے والی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً 17 گنا زیادہ تھی
پاکستانی کمپنیوں میں کچھ مثالیں ضرور موجود ہیں لکی سیمنٹ نے عراق اور جمہوری جمہوریہ کانگو میں پیداواری کاروبار قائم کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی صنعتی گروپ بیرون ملک بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ تاہم ایسے اداروں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے
پاکستان کے کاروباری ماحول میں سیاسی عدم استحکام، توانائی کی قلت، روپے کی قدر میں کمی، مہنگی مالی معاونت، غیر مستقل قوانین اور بار بار آنے والے معاشی بحران کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بعض مقامی کاروبار ایسے فوائد سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو بیرون ملک موجود نہیں ہوتے، جیسے درآمدی پابندیاں، کم اجرت، محدود مسابقت، لائسنس اور مقامی کاروباری روابط
اس کے برعکس بیرون ملک کاروبار قائم کرنے والی پاکستانی نژاد کمپنیوں اور کاروباری افراد کی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی کاروباری صلاحیت کی کمی نہیں برطانیہ، شمالی امریکہ اور خلیجی ممالک میں پاکستانی نژاد افراد نے ٹیکنالوجی، تجارت اور دیگر شعبوں میں کامیاب کاروبار قائم کیے ہیں
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی کمپنیاں خود بیرون ملک سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہیں بڑی معیشتیں عام طور پر دونوں کام کرتی ہیں، یعنی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل کرتی ہیں اور اپنی کمپنیاں بھی بیرون ملک پھیلاتی ہیں
پاکستان کے بڑے کاروباری خاندانوں کی اگلی نسل کے پاس پہلے سے سرمایہ، صنعتی ڈھانچہ، کاروباری روابط اور کئی دہائیوں میں قائم کیے گئے ادارے موجود ہیں ان وسائل کو صرف محفوظ رکھنے کے بجائے بیرون ملک کاروبار خریدنے، عالمی برانڈ بنانے اور نئی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
اس مقصد کے لیے حکومت کو بھی ایسی پالیسی بنانا ہوگی جو ذاتی دولت بیرون ملک منتقل کرنے اور پاکستانی کمپنی کی پیداواری سرمایہ کاری میں فرق کرے اگر پاکستانی کمپنیاں بیرون ملک کاروبار خریدتی ہیں، نئی منڈیاں حاصل کرتی ہیں یا ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے منافع، مہارت اور عالمی کاروباری روابط دوبارہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرے، بلکہ ایک ایسا ماحول بھی بنانا ضروری ہے جہاں پاکستانی کمپنیاں خود عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں اور بیرون ملک بڑے کاروبار قائم کر سکیں





