جوہری خطے میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان بھارت مذاکرات بحال کرنے پر زور
جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور حالیہ فوجی تصادم کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور رابطوں کی بحالی پر زور دیا گیا ہے
اسلام آباد میں ایک حالیہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے قومی کمانڈ اتھارٹی کے مشیر اور اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں سفارت کاری کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ ہتھیاروں پر قابو پانے کے نظام میں کمزوری اور طاقت پر بڑھتا انحصار خطے کے اسٹریٹیجک استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے
انہوں نے بھارت کی فوجی پالیسی اور علاقائی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2 جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے
حالیہ فوجی کشیدگی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کیا ہے ایسے ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے اسی لیے فوجی حکام کے درمیان باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ کسی واقعے یا غلط فہمی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے
اس کے ساتھ سفارتی رابطوں کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان غیر سرکاری سطح پر مذاکرات کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے فوری طور پر مستقل امن کا امکان مشکل نظر آتا ہے، تاہم رابطے جاری رکھنے سے کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور کسی بڑے تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
پاکستانی حکام پہلے بھی جنگ کے بجائے مذاکرات اور رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی ایک مشکل عمل ہو سکتا ہے، تاہم رابطے مکمل طور پر ختم ہونے کی صورت میں غلط فہمیوں اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں
جنوبی ایشیا میں جاری عالمی اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تحمل اور مسلسل مذاکرات کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں جانب سے اشتعال انگیز بیانات سے گریز، فوجی رابطوں کی بحالی اور سفارتی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا اہم قرار دیا جا رہا ہے





