عمران خان کی مزید 2 بہنیں گرفتار، بچوں کو بھی ساتھ لے جانے کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی مزید 2 بہنوں، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے یہ پیش رفت عمران خان کی بہن علیمہ خان کی 30 روزہ حراست کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں کے ساتھ ان کے بچوں اور علیمہ خان کے بیٹوں کو بھی حراست میں لیا اور انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تاہم ان گرفتاریوں کے حوالے سے سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حکام نے ان کی خالاؤں اور کزنز کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں زبردستی گاڑیوں میں بٹھایا ان کے مطابق خاندان کو گرفتاری کی وجوہات یا انہیں لے جائے جانے والے مقام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی
یہ کارروائی علیمہ خان کی گرفتاری کے فوراً بعد سامنے آئی ہے لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے انہیں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا پولیس کے مطابق علیمہ خان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے حکم میں امن و امان اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کو حراست کی وجہ قرار دیا گیا ہے
علیمہ خان کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبے کے لیے سیاسی جدوجہد کرنا ہے
پی ٹی آئی نے علیمہ خان کی گرفتاری کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے پارٹی کے مطابق حکومت کے اقدامات سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی ایسے احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے امن و امان یا عوام کی آمد و رفت متاثر ہو
27 ستمبر کے احتجاج سے قبل عمران خان کے خاندان کے افراد کے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں نے پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے مزید گرفتاریوں کے دعوے کی مکمل سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے





