کینیڈا یورپی یونین کی 28ویں ریاست نہیں بنے گا، پویلیور
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے دوران کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پویلیور نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا یورپی یونین کی 28ویں ریاست نہیں بنے گا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم مارک کارنی یورپی ممالک کے ساتھ کینیڈا کے تجارتی، معاشی اور دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں یورپی یونین کی جانب سے کینیڈا کو ایک نئی طرز کی ایسوسی ایٹ رکنیت دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت کینیڈا کو مکمل رکن بنائے بغیر یورپی یونین کے ساتھ مختلف شعبوں میں زیادہ قریبی تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی ہے
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی آزاد تجارتی معاہدہ موجود ہے جبکہ دونوں فریق تجارت، توانائی، اہم معدنیات، دفاع، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کر رہے ہیں کارنی نے یورپی یونین کی ایسوسی ایٹ رکنیت کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم اس انتظام کی حتمی نوعیت اور شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں
یورپی یونین میں اس وقت 27 مکمل رکن ممالک شامل ہیں اور کینیڈا کے لیے مجوزہ ایسوسی ایٹ رکنیت مکمل رکنیت سے مختلف تصور کی جا رہی ہے اس کا مقصد کینیڈا کو یورپی یونین کا رکن ملک بنانا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے
اس پیش رفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ردعمل دے چکے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان نیا تعلق امریکہ کے خلاف کسی اقدام کے طور پر استعمال ہوا تو واشنگٹن اسے مخالفانہ قدم سمجھ سکتا ہے کینیڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسی میں نئے مواقع تلاش کر رہی ہے اور اس کا مقصد امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنا نہیں ہے
پویلیور نے برینٹ فورڈ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کو یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر غور کرنا چاہیے، لیکن وہ کینیڈا میں یورپی قوانین، ٹیکسوں یا امیگریشن پالیسی کو لاگو کرنے کے مخالف ہیں انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا کو اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے یورپ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے چاہییں





