Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران کے خلاف اگلے اقدام پر ٹرمپ کا فیصلہ، خطے میں نئی جنگ کا خدشہ

ایران کے خلاف اگلے اقدام پر ٹرمپ کا فیصلہ، خطے میں نئی جنگ کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے سے متعلق اہم فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی نئے بڑے حملے کی صورت میں امریکی اڈوں اور خطے میں اس کے مفادات کے خلاف مسلسل جوابی کارروائی کی جائے گی اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں
امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے لیے تازہ سکیورٹی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور اچانک کشیدگی بڑھ سکتی ہے امریکی شہریوں کو ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور دیگر سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے، جبکہ خطے سے باہر موجود امریکی شہریوں کو وہاں سفر کرنے یا وہاں سے گزرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر کیمپ ڈیوڈ میں اپنا قیام اچانک مختصر کر دیا اور وائٹ ہاؤس واپس پہنچ گئے وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس اچانک واپسی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ہیں اور ایران کے معاملے پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقات متوقع ہے
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے ان کے سامنے بنیادی طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی بڑھانے، معاشی دباؤ جاری رکھنے یا مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی طرف جانے کے راستے موجود ہیں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، کیونکہ پزشکیان بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والے ہیں
ایران نے دوسری جانب واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ بڑا حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا ایرانی فوجی کمان کے مطابق امریکا کا ساتھ دینے والے علاقائی ممالک کو بھی تنازع کا فریق تصور کیا جا سکتا ہے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ امریکا دوبارہ کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی
اس دوران یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے امریکی حکام حوثیوں کو ایران کا اتحادی قرار دیتے ہیں، جبکہ خطے میں موجود دیگر فریق اس کشیدگی کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے قریب حالیہ حملوں کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے اضافی سکیورٹی انتباہ بھی جاری کیا ہے
اس پورے بحران کا ایک انتہائی اہم پہلو آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال ہے آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے جبکہ باب المندب بحیرہ احمر اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہے دونوں راستوں میں رکاوٹ سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے معاملے کو اپنے ساتھ ہونے والی سابقہ جنگ بندی اور مذاکرات کی شرائط سے جوڑ رکھا ہے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی تشریح کے مطابق متعلقہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز کو پہلے کی صورتحال میں واپس لانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورتحال نے پہلے ہی عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے
پاکستان بھی اس بحران میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق اسلام آباد جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دے گا پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کے لیے تعمیری کردار اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کسی ایک فریق کی نئی فوجی کارروائی کے بعد جواب در جواب حملوں کا سلسلہ دوبارہ وسیع جنگ میں تبدیل ہو جائے امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے سخت بیانات، خلیجی ممالک کے خلاف ممکنہ حملوں کے خدشات اور اہم سمندری راستوں میں رکاوٹ نے بحران کو صرف 2 ممالک کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی و تجارت تک پہنچ رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید