Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی نئی سفارتی کوشش، محسن نقوی تہران روانہ

ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی نئی سفارتی کوشش، محسن نقوی تہران روانہ

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کا دورہ کر رہے ہیں ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران نے امریکا کے سامنے مذاکرات اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں اور خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے
ایرانی حکام کے مطابق محسن نقوی کے دورے کا بنیادی مقصد ایران پاکستان دوطرفہ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ محسن نقوی امریکا کی جانب سے کوئی مخصوص پیغام یا تجویز لے کر آ رہے ہیں، تاہم انہوں نے پاکستان کے سفارتی کردار کو تسلیم کیا ہے
یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں اپنا کردار ادا کرتا آ رہا ہے اگست میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا تھا جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ جنگ بندی، کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے امکانات پر بات ہوئی تھی
ایران نے اب امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق تہران نے ثالثی کے ذریعے واشنگٹن کو 7 شرائط پہنچائی ہیں، تاہم ان تمام شرائط کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی گئی ان کے مطابق ایران کی نمایاں شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہیں
آبنائے ہرمز اس تنازع کا سب سے اہم پہلو بن چکی ہے یہ تنگ سمندری راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے ایران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں اور امریکا اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر پہلے جیسی کھلی حالت میں لانا ممکن نہیں ہوگا
پاکستان کے لیے یہ بحران صرف سفارتی معاملہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ سے عالمی توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں، بحری مال برداری اور درآمدی اخراجات پر اثر پڑ سکتا ہے پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے خلیج میں طویل کشیدگی پاکستانی معیشت اور عام صارفین دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے
پاکستان اس سے پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے جون میں ہونے والی مفاہمت کا مقصد جنگ بندی اور وسیع تر سیاسی معاہدے کی طرف بڑھنا تھا، تاہم بعد میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے اور یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا
اب ایران کا مؤقف یہ ہے کہ امریکا کو کشیدگی کم کرنے کے لیے پہلے اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے، جبکہ واشنگٹن ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اس ماحول میں پاکستان کے لیے دونوں ملکوں تک رسائی رکھنے والے ایک علاقائی ثالث کے طور پر رابطے برقرار رکھنا اہم ہو گیا ہے، لیکن اس سفارتی کوشش کا نتیجہ ایران اور امریکا کے آئندہ فیصلوں پر منحصر ہوگا
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ محسن نقوی کا موجودہ دورہ باضابطہ طور پر ایران پاکستان تعلقات اور پہلے سے طے شدہ معاہدوں کی پیروی کے لیے ہے اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ لے کر تہران پہنچ رہے ہیں تاہم ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز کی بحالی، جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے لیے مختلف سفارتی راستے دوبارہ فعال ہو رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید