Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

احتجاج روکنے کے لیے ٹرکوں کی پکڑ دھکڑ، مال بردار شعبہ حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کرنے پر مجبور

احتجاج روکنے کے لیے ٹرکوں کی پکڑ دھکڑ، مال بردار شعبہ حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کرنے پر مجبور

پاکستان میں سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ روکنے کے لیے مال بردار ٹرکوں، ٹریلرز اور کنٹینرز کو سرکاری تحویل میں لینے کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے نجی کاروباری گاڑیوں کو استعمال کرتی ہے، جبکہ ان گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کا سیاسی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا موجودہ صورتحال میں بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑی تعداد میں گاڑیاں احتجاج سے کئی دن پہلے تحویل میں لے لی گئیں، جس سے مال برداری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں
ٹرانسپورٹرز کے مطابق تقریباً 400,000 مال بردار گاڑیاں، جن میں تیل بردار گاڑیاں اور چھوٹے ٹرک شامل نہیں، ملک کی صنعت، تجارت اور رسد کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے ذریعے کارخانوں، منڈیوں، بندرگاہوں اور شہروں کے درمیان روزانہ سامان منتقل ہوتا ہے اور اس شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے ایسے میں گاڑیوں کو کئی دن تک کھڑا کر دینا صرف ایک ٹرانسپورٹر کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری سپلائی چین کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے
اس مرتبہ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے ٹرک اور کنٹینرز 27 ستمبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے تقریباً 2 ہفتے پہلے ہی تحویل میں لے لیے گئے بعض اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں تقریباً 1,000 کنٹینرز، ٹرک، ٹریلرز اور دیگر بھاری گاڑیاں تحویل میں لی گئی ہیں، جن میں خوراک، ادویات، خشک میوہ جات اور صنعتی سامان بھی موجود ہے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گاڑیاں طویل عرصے تک کھڑی رہنے سے خراب ہونے والی اشیا ضائع ہو سکتی ہیں اور مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے
اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کسی سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے کسی نجی شخص کی گاڑی استعمال کرتی ہے تو گاڑی کے مالک، ڈرائیور اور اس میں موجود سامان کے نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ انہیں سیاسی تنازع میں فریق بنائے بغیر ان کی گاڑیاں واپس کی جانی چاہئیں اور اگر سرکاری تحویل کے دوران گاڑی، سامان یا کاروباری آمدنی کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ازالے کا واضح طریقہ ہونا چاہیے موجودہ رپورٹ میں کسی باقاعدہ معاوضے کی اسکیم یا اس نقصان کی ادائیگی کے واضح طریقہ کار کا ذکر سامنے نہیں آتا
ڈرائیوروں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو جاتی ہے بعض ڈرائیوروں نے بتایا کہ ان کی گاڑیاں سامان سمیت پولیس نے تحویل میں لے لیں اور وہ کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہوئے، جبکہ ان کے لیے مناسب انتظامات بھی نہیں کیے گئے اس طرح گاڑی کا مالک مالی نقصان اٹھاتا ہے، ڈرائیور اپنی روزانہ کی آمدنی سے محروم ہوتا ہے اور اگر گاڑی میں کسی تاجر کا سامان موجود ہو تو تاجر کو بھی نقصان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے
ٹرانسپورٹرز کی شکایات صرف موجودہ پکڑ دھکڑ تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بھاری ٹیکس، جرمانوں، ٹول ٹیکس، خراب سڑکوں، روٹ پرمٹ کے مسائل، پولیس اور علاقائی ٹرانسپورٹ حکام کے مبینہ اضافی مطالبات اور بھاری گاڑیوں کے لائسنس کے پیچیدہ نظام کا سامنا کر رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ایک مکمل صنعتی شعبے کے طور پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کا وہ ملک کی معیشت میں اہم کردار ہونے کے باوجود مستحق ہے
حکومت کے مؤقف کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں سڑکوں کی حفاظت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لیے کی جاتی ہیں پولیس کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک مال بردار گاڑیوں کی 7 ملین سے زیادہ ٹریفک خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور قانونی کارروائی کی گئی، جن میں تقریباً 692,225 ایکسل لوڈ سے متعلق خلاف ورزیاں شامل ہیں پولیس نے بھاری گاڑیوں کے لائسنس کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ قانونی نظام موجود ہے
لیکن ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور سیاسی احتجاج روکنے کے لیے نجی گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے معاملات کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں ہوگا ایک گاڑی اگر ٹریفک قانون توڑتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن اگر کسی کاروباری گاڑی کو محض اس لیے روکا جائے کہ اسے سڑک بند کرنے یا احتجاجی راستہ روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے تو اس کے قانونی جواز، مدت، سامان کی حفاظت اور مالک و ڈرائیور کے نقصان کے ازالے کے سوالات الگ پیدا ہوتے ہیں
یہ مسئلہ پاکستان میں نیا بھی نہیں سیاسی احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کے دوران کنٹینرز اور بھاری گاڑیاں سڑکیں بند کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں موجودہ معاملے میں بھی ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں سیاسی سرگرمیوں میں نہ گھسیٹا جائے اور ان کی گاڑیاں واپس کی جائیں ستمبر کے آغاز میں بھی ٹرانسپورٹر تنظیموں نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کنٹینرز تحویل میں لیے جانے پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ کاروباری گاڑیوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
اس پورے معاملے میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ حکومت احتجاج روکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ احتجاج روکنے کی قیمت کون ادا کرتا ہے اگر سڑکیں بند ہونے سے سیاسی کارکنوں کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی ایسے ڈرائیور کو کئی دن گاڑی سے دور رکھنا جس کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں، یا کسی تاجر کا سامان ایسی گاڑی میں روک دینا جس کے خراب ہونے کا خدشہ ہو، براہ راست عام شہری اور کاروباری طبقے کو متاثر کرتا ہے
حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان یہ تنازع اس بڑے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور انتظامی بحرانوں کا بوجھ اکثر کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں تک پہنچ جاتا ہے ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مہنگے ایندھن، ٹیکس، ٹول اور سڑکوں کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے خود تسلیم کیا ہے کہ ملک کی سڑکوں کی حالت فنڈز کی کمی سے متاثر ہوئی ہے ادارے کے مطابق گزشتہ سال ٹول ٹیکس سے 128 ارب روپے آمدنی ہوئی، جبکہ وفاقی حکومت سے سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف 9 ارب روپے ملے
اگر حکومت کسی نجی کاروباری گاڑی کو عوامی نظم و ضبط کے لیے عارضی طور پر استعمال کرتی ہے تو اس کے لیے شفاف قانونی طریقہ کار، گاڑی کے استعمال کی مناسب ادائیگی، سامان کی حفاظت، ڈرائیور کے اخراجات اور ممکنہ نقصان کے معاوضے کا واضح نظام ہونا چاہیے ورنہ سیاسی احتجاج روکنے کا انتظامی فیصلہ ایسے لوگوں کو مالی نقصان پہنچا سکتا ہے جن کا اس سیاسی تنازع سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ریاستی اختیار استعمال کرتے وقت عام شہری، ڈرائیور، ٹرانسپورٹر اور تاجر کے حقوق اور مالی نقصان کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی معیشت کا اہم حصہ چلا رہے ہیں لیکن جب سیاسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے ان کی گاڑیاں اور روزگار متاثر ہوتے ہیں حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ایسے شہریوں اور کاروباری افراد کو بھی غیر ضروری نقصان سے کیسے بچایا جائے جن کا سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں

قومی خبریں سے مزید