Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

زہرہ بے چاند کیوں ہے؟ سائنس دان نے کروڑوں سال پرانے کائناتی راز کا نیا جواب ڈھونڈ لیا

زہرہ بے چاند کیوں ہے؟ سائنس دان نے کروڑوں سال پرانے کائناتی راز کا نیا جواب ڈھونڈ لیا

زہرہ، جو حجم، کمیت اور ساخت کے اعتبار سے زمین کا سب سے قریبی سیاروی ہم شکل سمجھا جاتا ہے، شاید ہمیشہ سے اکیلا اور بے چاند نہیں تھا،ایک نئی سائنسی تحقیق نے امکان ظاہر کیا ہے کہ زہرہ کے گرد کبھی ایک قدرتی چاند گردش کرتا تھا، لیکن خود زہرہ کی انتہائی سست محوری گردش نے بالآخر اس چاند کو سیارے کی طرف دھکیل دیا اور ایک تباہ کن تصادم میں اسے نگل لیا
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر فلکیات اسٹیفن کرین کی پیش کردہ نئی تھیوری کے مطابق زہرہ کی غیر معمولی طور پر سست گردش اس کے کسی ممکنہ چاند کے لیے طویل مدت تک مستحکم مدار برقرار رکھنا تقریباً ناممکن بنا دیتی،چاند بتدریج اپنے سیارے کے قریب آتا جاتا اور بالآخر زہرہ کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہوجاتا
یہ نظریہ زہرہ کے چاند سے محروم ہونے کی سابقہ توجہیات سے مختلف ہے،سائنس دان اس سے پہلے یہ امکان ظاہر کرتے رہے ہیں کہ زہرہ نے کبھی چاند حاصل ہی نہیں کیا، یا ابتدائی نظام شمسی میں کسی بڑے تصادم کے نتیجے میں اس کا ممکنہ چاند تباہ ہوگیا
نئی تحقیق میں پیش کیا گیا منظرنامہ اس عمل کو ایک طرح کی “کائناتی خود خوری” قرار دیتا ہے،یعنی زہرہ نے اپنے ہی گرد گردش کرنے والے ممکنہ قدرتی سیارچے کو بتدریج اپنی طرف کھینچا اور آخرکار وہ اسی سیارے کا حصہ بن گیا
زہرہ کی گردش اس معمے کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے،یہ اپنے محور پر ایک گردش مکمل کرنے میں تقریباً 243 زمینی دن لیتا ہے، جو اسے نظام شمسی کے دوسرے بڑے سیاروں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر سست بناتا ہے،یہی سست گردش چاند اور سیارے کے درمیان کششِ ثقل کے طویل مدتی تعلق کو اس طرح تبدیل کرسکتی ہے کہ قدرتی سیارہ آہستہ آہستہ اپنے مرکزی سیارے کے قریب آنے لگے
اس تھیوری کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ زہرہ کی موجودہ تنہائی شاید اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں کبھی چاند تھا ہی نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ اس کا چاند تھا، مگر زہرہ اسے ہمیشہ اپنے پاس برقرار نہیں رکھ سکا
اگر یہ تصور مزید شواہد سے مضبوط ہوتا ہے تو زہرہ کا بے چاند ہونا محض ایک فلکیاتی عجیب بات نہیں رہے گا، بلکہ یہ اس بات کی ایک مثال بن سکتا ہے کہ سیاروں اور ان کے چاندوں کے مدار اربوں سال کے دوران کس طرح بدلتے ہیں اور ایک سیارے کا موجودہ منظرنامہ اس کے انتہائی پُرتشدد ماضی کے آثار اپنے اندر کیسے چھپا سکتا ہے
تحقیق کا بنیادی سوال اب صرف یہ نہیں کہ زہرہ کا چاند کہاں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر کبھی اس کا چاند موجود تھا تو وہ زہرہ میں کس طرح ضم ہوگیا؟ سائنس دانوں کے لیے یہ سوال ہمارے اپنے نظام شمسی کی ابتدائی تشکیل اور سیاروں کے گرد چاندوں کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کا ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید