Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایندھن بحران میں حکومت کے ریلیف اور کفایت شعاری کے اقدامات پر سوالات

ایندھن بحران میں حکومت کے ریلیف اور کفایت شعاری کے اقدامات پر سوالات

پاکستان میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور خلیجی توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں اور ترسیل کے اخراجات میں اضافے کا دباؤ بڑھ رہا ہے آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی رسد اور شپنگ کے اخراجات کو متاثر کیا ہے اس صورتحال کے اثرات پاکستان میں بھی پٹرول، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں تک پہنچ رہے ہیں
حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک طرف سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں جبکہ دوسری طرف موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے 75 ارب روپے کے ایندھن ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے تاہم اس ریلیف کے طریقہ کار پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا صرف گاڑی رکھنے والے افراد کو سبسڈی دینا واقعی کم آمدنی والے خاندانوں تک امداد پہنچانے کا مؤثر طریقہ ہے
اس تناظر میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ گاڑی کی ملکیت کسی خاندان کی مالی حالت کا درست پیمانہ نہیں بعض کم آمدنی والے افراد موٹر سائیکل روزگار کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن ایسے خاندان بھی موجود ہیں جن کے پاس کوئی گاڑی نہیں اور وہ بس، وین یا رکشے کے ذریعے سفر کرتے ہیں پٹرول کی قیمت بڑھنے سے ان کے سفری اخراجات بھی بڑھتے ہیں، مگر موجودہ طرز کی گاڑیوں سے منسلک سبسڈی میں انہیں براہ راست فائدہ نہیں ملتا
اس کے مقابلے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے قومی سماجی و معاشی رجسٹری کے ذریعے کم آمدنی اور معاشی کمزوری کی بنیاد پر خاندانوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے ایسی صورت میں امداد براہ راست مستحق خاندانوں کو دی جا سکتی ہے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق اسے پٹرول، پبلک ٹرانسپورٹ، خوراک، بجلی یا علاج پر خرچ کر سکتے ہیں
حکومت کے لیے مالی پہلو بھی اہم ہے۔ پٹرولیم لیوی حکومت کے اہم آمدنی کے ذرائع میں شامل ہے، اس لیے اس میں مزید کمی سے سرکاری آمدنی متاثر ہو سکتی ہے حکومت نے اس کے بجائے الگ سے ایندھن سبسڈی فراہم کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، تاہم اس پیکیج کی مکمل مالی ضروریات اور اس کے لیے رقم کہاں سے فراہم کی جائے گی، اس حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ہے
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مال برداری مہنگی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں خوراک سمیت دوسری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں اسی لیے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے کسی نہ کسی شکل میں ریلیف کی ضرورت موجود ہے، لیکن ریلیف کی نوعیت اور مستحق افراد کی نشاندہی اس کی مؤثریت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے
کفایت شعاری کے اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی، غیر ضروری سرکاری سفر اور خریداری پر پابندیاں اور بعض سرکاری سرگرمیوں کے اوقات محدود کرنا شامل ہے تاہم ان اقدامات سے متوقع بچت کتنی ہوگی اور عملی طور پر کتنی رقم بچائی گئی، اس کی باقاعدہ تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے تاکہ ان اقدامات کے نتائج کا جائزہ لیا جا سکے
اس صورتحال میں صوبائی حکومتوں کا کردار بھی اہم ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ، تجارتی سرگرمیوں اور کئی عوامی خدمات کا بڑا حصہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے اگر وفاقی حکومت ایندھن کی بچت کے اقدامات کرے لیکن صوبائی سطح پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی نہ ہو تو عام شہری پر مالی دباؤ برقرار رہ سکتا ہے
موجودہ بحران وقتی طور پر ختم ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کی درآمدی ایندھن پر انحصار، محدود ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور کئی شہروں میں سستی اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی جیسے مسائل بدستور موجود رہیں گے اس لیے موجودہ ایندھن بحران سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ایسے مستقل اقدامات کی ضرورت بھی برقرار ہے جو مستقبل میں عالمی توانائی کے کسی نئے بحران کے دوران عام شہریوں کو زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کر سکیں

قومی خبریں سے مزید