جرمنی میں سیاسی زلزلہ، اے ایف ڈی کی ایک اور کامیابی نے مرز کی جماعت کو تاریخی شکست دے دی
برلن: جرمنی کی سیاست میں ایک بار پھر بڑا الٹ پھیر سامنے آیا ہے جہاں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) نے شمال مشرقی ریاست میکلن برگ-ویسٹرن پومیرینیا کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز کی حکمران قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (CDU) تاریخی طور پر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی
تازہ ARD تخمینے کے مطابق AfD نے 38.3 فیصد ووٹ حاصل کیے، حکمران سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) 35.4 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ CDU صرف 4.9 فیصد تک گر گئی،5 فیصد کی پارلیمانی حد سے نیچے جانے کے باعث CDU کے ریاستی پارلیمان سے باہر ہونے کا امکان ہے، جو 1949 کے بعد جرمنی کی کسی ریاست میں اس جماعت کے لیے پہلی مرتبہ ہوگا
نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے فریڈرک مرز نے خود اسے “تباہ کن نتیجہ” قرار دیا، تاہم انہوں نے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام جاری رکھیں گے،رائٹرز کے مطابق اس شکست سے پہلے ہی دباؤ کا شکار مرز کی قیادت پر مزید سوالات اٹھے ہیں،AfD کی کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ ایک ماہ کے اندر دوسری ریاستی سطح کی انتخابی کامیابی ہے،میکلن برگ،ویسٹرن پومیرینیا میں جماعت نے 2021 کے مقابلے میں اپنا ووٹ شیئر دوگنے سے بھی زیادہ کر لیا ہے،تاہم سب سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود AfD کے لیے حکومت بنانا فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ دیگر بڑی جماعتیں اس کے ساتھ اتحاد سے انکار کرتی رہی ہیں
اسی روز برلن کے ریاستی انتخابات نے بھی جرمنی کے روایتی سیاسی نقشے میں تبدیلی کی ایک اور علامت دکھائی، جہاں بائیں بازو کی جماعت دی لنکے سب سے زیادہ ووٹ لے کر آگے رہی، CDU دوسرے نمبر پر اور AfD تیسرے نمبر پر رہی،AfD نے برلن میں بھی اپنا ووٹ بینک نمایاں طور پر بڑھایا ہے
یوں ایک ہی دن کے دو ریاستی انتخابات نے جرمنی کی بڑی روایتی جماعتوں کے لیے ایک پیچیدہ سیاسی تصویر سامنے رکھی ہے،مشرقی ریاست میں AfD سب سے بڑی جماعت بن گئی، جبکہ دارالحکومت برلن میں روایتی جماعتوں کے مقابلے میں بائیں اور دائیں دونوں جانب کی سیاسی قوتوں نے نمایاں پیش رفت کی،مرز نے شکست کو “تباہی” قرار دینے کے باوجود اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اس لیے فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کے بجائے اصل سوال اب یہ ہے کہ ان نتائج کے بعد ان کی جماعت اور وفاقی حکومت اپنی سیاسی حکمت عملی کس طرح تبدیل کرتی ہیں





