گیراج کی صفائی کے دوران ’خفیہ‘ فائل ملی، دوسری جنگِ عظیم کے گمشدہ جنگی قیدیوں کے راز سامنے آگئے
نیویارک کے ایک شخص نے اپنے گیراج کی صفائی کے دوران ایک ایسی فائل دریافت کی جس پر سرخ حروف میں “SECRET” لکھا تھا،بظاہر پرانے اور بے کار کاغذات پر مشتمل اس فائل کے اندر دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن قید میں رہنے والے 120 سے زیادہ امریکی فوجیوں کے ذاتی حالات اور جنگی قیدی کیمپوں میں گزرے دنوں کی تفصیلات محفوظ تھیں
واٹرلو، نیویارک کے رہائشی جیسن ہرڈل اپنے گیراج میں ہالووین کی سجاوٹ کے لیے جگہ بنا رہے تھے جب انہیں دیوار کے پیچھے ایک ایسا خفیہ خانہ نظر آیا جس کے بارے میں انہیں پہلے علم نہیں تھا،وہاں ایک پرانا گتے کا ڈبہ پڑا تھا جس میں موسم کی شدت سے خراب ہو چکی متعدد فائلیں موجود تھیں
ہرڈل انہیں کچرے میں پھینکنے ہی والے تھے کہ ہوا کے جھونکے سے ایک فائل کا سرورق اٹھا اور اس پر سرخ رنگ میں لکھا لفظ “SECRET” ان کی نظر میں آگیا،انہوں نے کاغذات دیکھنا شروع کیے تو اندازہ ہوا کہ یہ عام پرانے کاغذات نہیں بلکہ امریکی فوج کے اہم تاریخی ریکارڈ ہیں
تقریباً 300 صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں 120 سے زائد امریکی فوجیوں نے جرمن قید کے دوران اپنے حالات خود تحریر کیے تھے،ان بیانات میں قیدی کیمپوں میں خوراک، علاج، رہائش اور صفائی کی انتہائی خراب صورتحال کے ساتھ ساتھ جرمن قید میں گزرنے والے خوفناک تجربات کا ذکر بھی موجود ہے
ایک دستاویز میں امریکی آرمی ایئر فورسز کے کرنل Darr H. Alkire نے 28 فروری 1945 کو ایک جرمن جنگی قیدی کیمپ کی صورتحال بیان کی تھی،یہ دستاویز “SECRET” کے نشان کے ساتھ موجود تھی اور اس میں قیدیوں کے لیے ناکافی خوراک، تنگ حالات اور فوجی اہداف کے قریب واقع کیمپ سے لاحق خطرات کا ذکر تھا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیشنل آرکائیوز کو بھی ان دستاویزات کے گم ہونے کا علم نہیں تھا،جب ہرڈل نے یہ ریکارڈ مقامی تاریخی مرکز کے ذریعے ماہرین تک پہنچائے تو نیشنل آرکائیوز کے حکام خود ان کے گھر پہنچے اور دستاویزات کو تحویل میں لے لیا،اب یہ ریکارڈ محفوظ کیے جا رہے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل شکل دے کر عوام اور محققین کے لیے دستیاب کرنے کا منصوبہ ہے
ان دستاویزات میں بعض ایسے امریکی فوجیوں کے تجربات بھی سامنے آئے جنہوں نے جنگ کے بعد اپنے خاندانوں سے بھی قید کے دنوں کے بارے میں بہت کم بات کی تھی،یوں گیراج میں اتفاقاً ملنے والی ایک پرانی فائل نے دوسری جنگِ عظیم کی ایسی ذاتی داستانیں دوبارہ زندہ کر دیں جو تقریباً 80 برس تک تاریخ کے اندھیرے میں گم رہیں
نیشنل آرکائیوز کے مطابق یہ دریافت امریکی جنگی تاریخ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ان دستاویزات میں بڑی تعداد میں جنگی قیدیوں کی براہ راست، پہلی شخص میں لکھی ہوئی شہادتیں محفوظ ہیں، جو اس دور کے قیدی کیمپوں کی زندگی کے بارے میں ایک نایاب تاریخی ریکارڈ فراہم کرتی ہیں





