خلا میں جنگ کی نئی تیاری، امریکہ اور چین کے درمیان خلائی ہتھیاروں کی دوڑ تیز
امریکہ نے خلا میں فوجی صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پہلی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ اس نے خلا میں ہتھیار نصب کر دیے ہیں، جس سے مستقبل میں خلائی جنگ اور سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیتوں پر نئی تشویش پیدا ہوئی ہے
امریکی خلائی فوج کی جانب سے نئی وردیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں، تاہم ان ہتھیاروں کی اصل نوعیت اور مکمل صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کیا گیا
امریکی فوجی حکام پہلے ہی خلا میں ایسی فوجی صلاحیتوں کی ضرورت پر بات کرتے رہے ہیں جن کے ذریعے روس اور چین کی خلائی نگرانی اور مواصلاتی صلاحیتوں کا مقابلہ کیا جا سکے خاص طور پر ایسے نظام تیار کیے جا رہے ہیں جو دشمن کے سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کے بجائے انہیں اندھا یا ناکارہ کر سکیں
ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران بھی سیٹلائٹس کی اہمیت نمایاں ہوئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ چینی اور روسی سیٹلائٹس نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے لیے معلومات فراہم کیں، جس سے امریکی فوجی اہداف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنانے میں مدد ملی چند ہفتے قبل چینی سیٹلائٹ یاوگان 50 کے مدار میں 40 سے زائد ٹکڑوں میں بکھرنے کے واقعے نے بھی سوالات اٹھائے، تاہم اس واقعے اور امریکی خلائی ہتھیاروں کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی
چین نے امریکی اعلان پر احتجاج کیا ہے اور خود بھی سیٹلائٹ شکن صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ 2007 میں چین نے زمین سے فائر کیے گئے میزائل کے ذریعے ایک پرانے موسمی سیٹلائٹ کو تباہ کیا تھا اگلے سال امریکہ نے بھی ایک فوجی سیٹلائٹ کو تباہ کیا، جبکہ 2010 میں چین نے ایک اور سیٹلائٹ کو نشانہ بنایا
اب خلائی جنگ کی حکمت عملی صرف سیٹلائٹس کو تباہ کرنے تک محدود نہیں رہی امریکہ، روس اور چین ایسے نظام بھی تیار کر رہے ہیں جو لیزر یا برقی توانائی کے ذریعے سیٹلائٹس کے سینسرز اور مواصلاتی نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں اس طرح سیٹلائٹ مدار میں موجود رہتے ہوئے بھی عملی طور پر بے کار ہو سکتا ہے
خلا کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نئی نہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے وی 1 اور وی 2 راکٹوں سے اس دوڑ کی بنیاد پڑی، جبکہ 1957 میں سوویت یونین کے سپوتنک سیٹلائٹ اور 1961 میں یوری گاگارین کے خلا میں جانے کے بعد خلائی دوڑ نے نئی شکل اختیار کی
1962 میں امریکہ نے اسٹار فش پرائم کے نام سے بلند سطح پر ایٹمی تجربہ بھی کیا تھا، جس کا ایک مقصد یہ جانچنا تھا کہ پیدا ہونے والی برقی مقناطیسی لہریں خلا میں موجود سیٹلائٹس کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہیں بعد ازاں 1967 میں بیرونی خلا کے معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے تحت خلا میں ایٹمی ہتھیار یا دیگر تباہ کن ہتھیار رکھنے اور چاند پر کسی ملک کی خودمختاری قائم کرنے کی ممانعت کی گئی
اس کے باوجود خلائی ہتھیاروں کی تیاری جاری رہی سوویت یونین نے 1974 میں ایک مسلح سیٹلائٹ کا تجربہ کیا، جبکہ 1980 کی دہائی میں امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن کے اسٹار وار منصوبے میں خلا سے میزائلوں کو روکنے کے لیے ہزاروں چھوٹے خلائی نظام نصب کرنے جیسے منصوبے بھی شامل تھے
ماضی میں ٹیکنالوجی اور اخراجات کی وجہ سے ایسے کئی منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے، لیکن موجودہ دور میں تیز رفتار تکنیکی ترقی نے خلا کو دوبارہ بڑی طاقتوں کے درمیان فوجی مقابلے کا اہم میدان بنا دیا ہے امریکہ، چین اور روس کی بڑھتی ہوئی خلائی فوجی صلاحیتوں سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں زمین کے ساتھ ساتھ مدار میں موجود سیٹلائٹس بھی اہم فوجی اہداف بن سکتے ہیں





