سانحہ نائن الیون کے زہریلے ملبے کی حقیقت پر نیویارک سٹی کی نئی تحقیقات، میئرز کو کیا معلوم تھا؟ 25 سال بعد بڑا سوال
نیویارک سٹی کے سب سے بڑے واچ ڈاگ ڈیپارٹمنٹ آف انویسٹی گیشن (DOI) نے اس بات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے زہریلے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں شہر کی مختلف میئرل انتظامیہ کو کیا معلوم تھا، کب معلوم ہوا اور اس معلومات کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟ تحقیقات کے لیے بیرونی قانونی اور تفتیشی ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں
یہ تحقیقات نیویارک سٹی کونسل کی منظور کردہ Resolution 560-A کے تحت ہورہی ہیں،قرارداد DOI کو پابند کرتی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ شہر کی میئرل انتظامیہ کو 9/11 کے بعد پیدا ہونے والے ماحولیاتی زہریلے مادوں، ان کے ماحول میں برقرار رہنے کے دورانیے اور انسانی صحت پر فوری و طویل مدتی اثرات کے بارے میں کب اور کتنی معلومات حاصل تھیں،تحقیقات میں سرکاری معلومات اور عوام کو دیے گئے بیانات کے درمیان فرق کا بھی جائزہ لیا جائے گا
یہ پیش رفت میئر زہران ممدانی کی جانب سے 8 ستمبر کو 9/11 سے متعلق تقریباً 170,000 صفحات پر مشتمل سرکاری ریکارڈ عوام کے لیے جاری کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے،ان دستاویزات میں گراؤنڈ زیرو کے قریب ہوا کے معیار، صحت کے خدشات، ماحولیاتی خطرات، ورلڈ ٹریڈ سینٹر 7 اور دیگر معاملات سے متعلق ریکارڈ شامل ہیں
جاری کیے گئے ریکارڈز میں ایسے دستاویزات بھی شامل ہیں جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکام کو ایسبیسٹوس سمیت ممکنہ زہریلے مادوں اور قانونی ذمہ داری کے خدشات کے بارے میں کتنی جلد معلومات حاصل ہوگئی تھیں،دوسری جانب حملوں کے بعد عوامی سطح پر ہوا کے محفوظ ہونے سے متعلق حکومتی بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں،ان تمام شواہد کا حتمی جائزہ اب DOI کی تحقیقات میں لیا جائے گا
تحقیقات کے لیے جون 2026 میں سٹی نے مالی سال 2026 اور 2027 کے دوران 3.81 ملین ڈالر مختص کیے تھے،DOI کے مطابق تاریخی نوعیت کی اس تحقیقات اور وسیع ریکارڈ کی جانچ کے لیے بیرونی تفتیشی فرم اور صحت عامہ کے ماہرین کی ضرورت ہے
DOI کو اپنی تحقیقات مکمل کرکے سٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مختلف میئرل انتظامیہ کو کیا معلوم تھا، کب معلوم تھا اور ان معلومات کی بنیاد پر کون سے فیصلے کیے گئے،ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی، اس لیے کسی سابق میئر یا انتظامیہ کے خلاف حتمی ذمہ داری کا تعین اس مرحلے پر نہیں ہوا ہے





