ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے بجلی اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈالنے سے روکنے کا امریکی بل منظور

ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے بجلی اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈالنے سے روکنے کا امریکی بل منظور

واشنگٹن:امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کو ایک دو جماعتی بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا، جس کا مقصد نئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے اخراجات میں اضافے کا بوجھ عام صارفین پر منتقل ہونے سے روکنا ہے
بل، جسے ریٹ پیئر پروٹیکشن ایکٹ (H.R. 9340) کہا جا رہا ہے، 417 کے مقابلے میں صرف 3 ووٹوں سے منظور ہوا،مخالفت کرنے والوں میں ڈیموکریٹک ارکان سمر لی، ڈیلا ریمیرز اور راشدہ طلیب شامل تھیں
قانون سازی کا مقصد ریاستوں کو ایسے ضوابط اختیار کرنے کی طرف لے جانا ہے جن کے تحت بڑے صنعتی بجلی صارفین، بالخصوص ڈیٹا سینٹرز، اپنی وجہ سے پیدا ہونے والے گرڈ اپ گریڈ اور اضافی بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں زیادہ حصہ ادا کریں، تاکہ یہ اخراجات دوسرے گھریلو اور کاروباری صارفین کے بجلی کے بلوں میں شامل نہ ہوں
ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعداد، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والے مراکز، نے بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے،کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق مختلف علاقوں میں اثرات یکساں نہیں ہیں؛ جہاں نئے ڈیٹا سینٹرز کے لیے یوٹیلیٹی کمپنیوں کو بڑے سرمایہ کاری اخراجات کرنا پڑتے ہیں وہاں بجلی کے نرخ بڑھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اضافی طلب سے موجودہ اخراجات زیادہ صارفین میں تقسیم ہونے کے باعث نرخ کم بھی ہوئے ہیں
ایوان میں بل کو تیز رفتار قانون سازی کے طریقہ کار کے تحت پیش کیا گیا تھا، جس کے لیے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری تھی،بل کی منظوری اب سینیٹ میں اس کے اگلے مرحلے پر منحصر ہے
راشدہ طلیب، سمر لی اور ڈیلیا رامیرز کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے نزدیک یہ قانون صارفین کو بجلی کے بڑھتے اخراجات سے مکمل تحفظ نہیں دیتا،بل ریاستوں کو ڈیٹا سینٹرز سے اضافی گرڈ اخراجات وصول کرنے کے معیار پر غور کرنے کا کہتا ہے، مگر اسے لازمی قرار نہیں دیتا،طلیب اس سے بھی آگے بڑھ کر وفاقی زمین پر نئے AI ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کی قانون سازی کی اسپانسر ہیں، جبکہ تینوں ارکان نے کم آمدنی اور اقلیتی آبادیوں پر ڈیٹا سینٹرز کے اثرات کے جائزے سے متعلق الگ قانون کی بھی حمایت کی ہے

قومی خبریں سے مزید