مسقط کی خفیہ ملاقات: حوثی امریکہ اور اسرائیل کو یقین دہانی، سعودیہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا اصل نشانہ نکلا
مسقط میں امریکی حکام اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی نمائندوں کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات نے مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ میں ایک انتہائی اہم اور پیچیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے،رائٹرز کے مطابق 5 ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات گزشتہ اتوار کو مسقط میں امریکی سفارتخانے میں ہوئی اور عمان نے اس کے انعقاد میں سہولت فراہم کی، جس کے بعد حوثیوں نے مکہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا ، حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور 2025 کی جنگ بندی برقرار رکھیں گے،ایک یمنی ذریعے کے مطابق اسرائیلی اور عام تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی، تاہم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو اس یقین دہانی سے مستثنیٰ رکھا گیا،امریکی محکمہ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق نہیں کی
یہاں سے اس ملاقات کی اصل جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سامنے آتی ہے،حوثی جو ایران کی مستند پراکسی سمجھے جاتے ہیں ، اس وقت یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے اہم حصوں، جن میں موخا اور باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم بھی شامل ہے، پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پیچھے دھکیل چکے ہیں،یعنی ایک طرف ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی براہ راست جنگ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف ایران سے وابستہ ایک اہم مسلح گروہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی دے رہا ہے، لیکن سعودی جہازوں کے لیے ایسی ضمانت دینے سے گریز کر رہا ہے
اسی تضاد نے مشرق وسطیٰ کے مبصرین کے سامنے یہ سوال رکھا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ ایران کی جنگی ترجیحات دراصل کیا ہیں، یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ایران، امریکہ، اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان کوئی خفیہ مشترکہ منصوبہ موجود ہے، کیونکہ ایسی کسی ڈیل یا منصوبے کا عوامی طور پر قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا،تاہم موجودہ واقعات یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ ایران، سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے مفادات ایک پیچیدہ علاقائی کشمکش میں ایک دوسرے سے مختلف سمتوں میں حرکت کر رہے ہیں
خاص طور پر سعودی عرب کا معاملہ اس لیے حساس ہے کہ ریاض پہلے ہی واشنگٹن سے حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کی درخواست کر چکا ہے،رائٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف امریکی مدد طلب کی، لیکن واشنگٹن نے فی الحال براہ راست فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس اور ہدف بندی میں تعاون کی پیشکش کی ہے
یہی وہ نکتہ ہے جس پر سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک میں سوال اٹھ سکتے ہیں،اگر حوثی امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کر رہے ہیں تو سعودی جہازوں کو اس سے مستثنیٰ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ اور اگر واشنگٹن کا بنیادی مفاد بحیرہ احمر میں آزادیٔ نقل و حرکت اور عالمی تجارت کا تحفظ ہے تو سعودی بحری جہازوں کو لاحق خطرہ بھی اسی مسئلے کا حصہ بنتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق نہیں کی، تاہم اس نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں آزادیٔ نقل و حرکت کا تحفظ امریکہ کے بنیادی مفادات میں شامل ہے
اس صورت حال کو ایران اور سعودی عرب کی کئی دہائیوں پر محیط علاقائی رقابت کے پس منظر کے بغیر سمجھنا بھی مشکل ہے،ایران اور سعودی عرب نے 2023 میں سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، لیکن یمن میں اثر و رسوخ کی کشمکش سمیت کئی علاقائی معاملات میں دونوں کے مفادات اب بھی متصادم ہیں،موجودہ بحران میں حوثیوں کی سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے خلاف پیش قدمی نے اس پرانے تنازعہ کو دوبارہ فوجی شکل دے دی ہے
دوسری طرف، اس بحران کے اثرات صرف ایران، سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں رہیں گے،آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے انتہائی اہم راستے ہیں،رائٹرز کے مطابق حالیہ سعودی حملوں اور حوثیوں کی پیش قدمی نے عالمی توانائی کی فراہمی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے
اس کا سب سے بڑا بوجھ ان ممالک پر پڑ سکتا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ میں ہیں،توانائی، شپنگ، خوراک اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے،رائٹرز نے بھی موجودہ مشرق وسطیٰ بحران، ہرمز اور بحیرہ احمر میں رکاوٹوں کو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا ہے
اسی لیے اس ملاقات کو محض ایک خفیہ سفارتی رابطہ سمجھنا شاید کافی نہیں،ایک طرف امریکہ حوثیوں کے ساتھ کم از کم محدود سطح پر بات چیت کا راستہ کھلا رکھے ہوئے ہے، دوسری طرف سعودی عرب امریکی فوجی مدد چاہتا ہے، جبکہ حوثی سعودی مفادات کو امریکی اور اسرائیلی اہداف سے الگ کر کے دیکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں،یہ صورت حال خطے میں جنگ کے نئے محاذوں، مسلم ممالک کے درمیان مزید تقسیم اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا خطرہ پیدا کرتی ہے
سب سے اہم سوال اب یہ نہیں کہ امریکہ اور حوثیوں کے درمیان بات چیت ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر حوثیوں کی ترجیح واقعی امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو چھوڑ کر سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا ہے تو اس نئی جنگی لکیر کے پیچھے علاقائی طاقتوں کے مفادات کیا ہیں، اور واشنگٹن اس خطرے کو کس حد تک قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ مسقط کی ملاقات نے اس سوال کا جواب نہیں دیا، لیکن اس نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے اندر موجود پیچیدگی کو ضرور نمایاں کر دیا ہے






