فیڈرل ریزرو اور ٹرمپ کے درمیان شرح سود پر اہم ٹکراؤ کا امکان، فیصلہ آج متوقع

فیڈرل ریزرو اور ٹرمپ کے درمیان شرح سود پر اہم ٹکراؤ کا امکان، فیصلہ آج متوقع

امریکی فیڈرل ریزرو آج شرح سود سے متعلق اہم فیصلہ کرنے جا رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں مرکزی بینک پر شرح سود کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتے رہے ہیں،یہ فیصلہ نئے چیئرمین کیون وارش کے دور میں فیڈ کا پہلا بڑا پالیسی امتحان بھی بن گیا ہے
ٹرمپ ماضی میں سابق فیڈ چیئرمین جیروم پاول پر شرح سود کم نہ کرنے پر مسلسل تنقید کرتے رہے تھے، تاہم وارش کی تقرری کے بعد ابتدائی طور پر دونوں کے درمیان نسبتاً بہتر تعلقات نظر آئے،اب، وارش کے عہدہ سنبھالنے کے چار ماہ سے بھی کم عرصے بعد، ٹرمپ کی جانب سے شرح سود میں کمی کے مطالبات نے دوبارہ دباؤ کی صورتحال پیدا کر دی ہے
تاہم موجودہ معاشی اعداد و شمار شرح سود میں کمی کے بجائے اضافے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں،رائٹرز کے مطابق مارکیٹیں فیڈ سے 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کی توقع کر رہی ہیں، جس سے وفاقی فنڈز کی شرح تقریباً 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں جا سکتی ہے،یہ 2023 کے بعد پہلی شرح سود میں اضافہ ہوگا
افراطِ زر فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے خاصا اوپر ہے اور حالیہ مہینوں میں توانائی کی قیمتوں سمیت مختلف عوامل نے قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے،جولائی میں ذاتی کھپت کے اخراجات کا قیمت اشاریہ سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد بڑھا تھا۔ اسی دوران 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار بھی 5 فیصد سے اوپر جا چکی ہے
ٹرمپ نے 13 ستمبر کو بھی کہا تھا کہ امریکہ کی شرح سود دنیا کے کسی بھی ملک سے کم ہونی چاہیے، جبکہ اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر فیڈ شرح سود کم نہیں کرتا تو بعض ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات روکنے پر غور کیا جا سکتا ہے
فیڈ کا فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے صرف قرض لینے کی لاگت ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ رہن کے قرضوں، کاروباری فنانسنگ، بانڈ مارکیٹ اور ڈالر سمیت وسیع مالیاتی حالات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے،وارش کے فیصلے کے ساتھ ان کی پریس کانفرنس اور آئندہ شرح سود کے بارے میں ان کا مؤقف بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہوگا

قومی خبریں سے مزید