پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ بھتے اور بلیک میلنگ کی زد میں، ایران ،افغانستان اور دبئی سے بھتے کی فون کالز
پاکستان کے تمام بڑے کاروباری ادارے اندرون و بیرون ملک سے آنے والی دھمکی آمیز فون کالوں سے پریشان ہو کر اپنے کاروبار اور بال بچے بیرون ملک شفٹ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ملک کے سرکاری ادارے انکا ناطقہ بند کئے ہوئے ہیں ، دوسری طرف جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گرد بھتے کیلئے بیرون ملک سے فون کرتے ہیں۔ کراچی بزنس کمیونٹی کے سرکردہ افراد نے حکومت اور سیکورٹی اداروں سے اس پریشان کن صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ کراچی میں پولیس کے علاوہ رینجرز ہزاروں کی تعداد میں تعینات ہے جبکہ تمام انٹیلیجنس ایجنسیز بھی بھرپور وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں مگر سٹریٹ کرائم ، ڈکیتی ، بھتے کی پرچیوں اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کاروباری افراد خوف اور پریشانی کا شکار ہیں۔ جرائم پیشہ گروہوں کے علاوہ ایف بی آر اور دوسرے ادارے بھی اپنا حصہ طلب کرنے کیلئے بلیک میلنگ اور دوسرے حربے استعمال کرتے ہیں جس سے ملک میں کاروبار کرنے والے افراد کا اعتماد حکومت اور ریاست پر ختم ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بیرونی ممالک سے بھی سرمایہ کاری میں انتہائی کمی آئی ہے جبکہ ہمارے امپورٹر ایکسپورٹر بھی اپنے منافع کا بیشتر حصہ بیرون ملک رکھ رہے ہیں۔ ملک کے سیاست دانوں اور اعلیٰ حکام کیطرف سے کرپشن کا پیسہ بیرون ملک ٹرانسفر کرنے اور جائیدادیں خریدنے کی اطلاعات سے ملک میں رہنے والے محب وطن شہریوں اور کاروباری افراد کو اپنے جان و مال کے تحفظ سے متعلق خدشات پیدا ہو گئے ہیں ۔






