جم اردن نے تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر دو مقامی پراسیکیوٹرز کو طلب کر لیا

جم اردن نے تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر دو مقامی پراسیکیوٹرز کو طلب کر لیا

امریکی ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن رکن جم اردن نے کولوراڈو کے باؤلڈر کاؤنٹی اور ورجینیا کے فیئر فیکس کاؤنٹی کے اعلیٰ پراسیکیوٹرز کو تارکین وطن سے متعلق فوجداری مقدمات میں مبینہ رعایتوں کی تحقیقات کے سلسلے میں سب پینا جاری کر دیے ہیں،کمیٹی نے دونوں عہدیداروں سے مطلوبہ دستاویزات اور مواصلاتی ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
اردن کا مؤقف ہے کہ دونوں مقامی پراسیکیوٹر دفاتر ایسے ملزمان کے خلاف مقدمات چلانے اور سزا کی سفارشات میں ان کی امیگریشن حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی سلوک کر رہے ہیں،کمیٹی کے مطابق باؤلڈر کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی مائیکل ڈوہرٹی اور فیئر فیکس کاؤنٹی کے کامن ویلتھ اٹارنی اسٹیو ڈیس کانو سے پہلے بھی معلومات طلب کی گئی تھیں، لیکن کمیٹی کے مطابق مطلوبہ ریکارڈ مکمل طور پر فراہم نہیں کیے گئے
فیئر فیکس کے پراسیکیوٹر ڈیس کانو کے دفتر نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران کمیٹی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 1,100 سے زیادہ صفحات پر مشتمل دستاویزات فراہم کر چکا ہے اور خود بھی کانگریس کے سوالات کے جواب دے چکا ہے،دفتر نے سب پینا کے اقدام کو سیاسی نوعیت کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی توجہ مقامی عوامی تحفظ پر ہے
یہ معاملہ وفاقی اور مقامی حکومتوں کے درمیان امیگریشن قوانین کے نفاذ پر جاری اختلاف کا حصہ ہے،امریکی محکمہ انصاف نے بھی مئی 2026 میں ڈیس کانو کے دفتر کی مقدمات میں چارجنگ، پلی بارگین اور سزا سے متعلق پالیسیوں کی وفاقی تحقیقات شروع کی تھیں،محکمہ انصاف نے واضح کیا تھا کہ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا امریکی شہریوں کے مقابلے میں غیر قانونی طور پر مقیم ملزمان کو ترجیحی سلوک دیا گیا یا نہیں، اور اس مرحلے پر کسی خلاف ورزی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا
اردن کی کمیٹی نے دونوں پراسیکیوٹرز کو 25 ستمبر تک سب پینا کی تعمیل کرنے کا کہا ہے،باؤلڈر اور فیئر فیکس ان علاقوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں مقامی حکام وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ تعاون کو محدود کرنے والی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں، جس نے وفاقی حکومت اور مقامی پراسیکیوٹرز کے درمیان اختیارات اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کا تنازع مزید نمایاں کر دیا ہے

قومی خبریں سے مزید