ٹیکساس سینیٹ دوڑ میں بڑا الٹ پھیر، ڈیموکریٹ جیمز ٹالریکو ریپبلکن کین پیکسٹن سے 5 پوائنٹس آگے
واشنگٹن: ٹیکساس کی امریکی سینیٹ کی دوڑ ریپبلکن پارٹی کے لیے توقع سے کہیں زیادہ مشکل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں نئی رائے شماری میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن پر 5 پوائنٹس کی برتری حاصل کرلی ہے
SoCal Strategies کی 12 اور 13 ستمبر کو 649 ممکنہ ووٹرز میں کرائی گئی رائے شماری کے مطابق ٹالریکو کو 50 فیصد جبکہ پیکسٹن کو 45 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے،جون میں اسی ادارے کے سروے میں پیکسٹن کو ٹالریکو پر 2 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، یعنی چند ماہ میں مقابلے کا رخ کم از کم 7 پوائنٹس تبدیل ہوا ہے
یہ نتیجہ اگرچہ ایک ہی سروے ہے اور اسے حتمی انتخابی پیش گوئی نہیں کہا جاسکتا، لیکن دیگر حالیہ سرویز بھی ٹیکساس میں مقابلے کو غیر معمولی طور پر سخت قرار دے رہے ہیں،اگست میں Emerson College/Nexstar کے سروے میں پیکسٹن کو 47 فیصد اور ٹالریکو کو 46 فیصد حمایت حاصل تھی، جبکہ 5 فیصد ووٹر غیر فیصلہ کن تھے
ٹالریکو کی موجودہ برتری کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ٹیکساس کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے،تاہم نوجوان ووٹرز اور بعض اقلیتی گروہوں میں ڈیموکریٹس کی بہتر کارکردگی اس ریاست کے روایتی سیاسی نقشے کو تبدیل کر رہی ہے،حالیہ Emerson سروے میں 50 سال سے کم عمر ووٹرز ٹالریکو کے حق میں 53 فیصد بمقابلہ 38 فیصد تھے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے ووٹرز میں پیکسٹن کو 53 فیصد کے مقابلے میں 42 فیصد برتری حاصل تھی
ریپبلکن امیدوار پیکسٹن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح حمایت حاصل ہے، لیکن ریپبلکن حلقوں میں خود ان کی انتخابی مہم کے بارے میں تشویش سامنے آ رہی ہے،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بعض ریپبلکن رہنما پیکسٹن کی محدود فنڈ ریزنگ اور کمزور عوامی مہم پر فکرمند ہیں، جبکہ ٹالریکو کی انتخابی مہم نے کہیں زیادہ رقم جمع کی ہے
اس دوڑ میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ٹیکساس کے لاطینی ووٹرز، جنہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ اور ریپبلکن امیدواروں کو پہلے کے مقابلے میں نمایاں زیادہ حمایت دی تھی، اب دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف جھکتے دکھائی دے رہے ہیں،حالیہ ایک سروے میں لاطینی ووٹروں کے درمیان ٹالریکو کو پیکسٹن پر 63 فیصد بمقابلہ 30 فیصد کی بڑی برتری حاصل تھی
اس لیے ٹیکساس کا سینیٹ مقابلہ محض دو امیدواروں کی شخصی مقبولیت کا امتحان نہیں رہا بلکہ یہ اس بات کا بھی اہم اشارہ بن سکتا ہے کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکن پارٹی اپنی روایتی ریاستوں میں کس حد تک دفاعی پوزیشن پر پہنچ سکتی ہے،نومبر کے انتخاب میں ابھی کئی ہفتے باقی ہیں، اس لیے موجودہ سرویز کو حتمی نتیجہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اگر ٹالریکو کی موجودہ برتری برقرار رہی تو ٹیکساس کی سینیٹ نشست ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک غیر متوقع اور انتہائی مہنگی جنگ بن سکتی ہے





