پٹرول لیوی، 100 روپے ریلیف اور روزانہ قیمتوں کا کھیل: پاکستان کا نظام عالمی معیار پر کہاں کھڑا ہے؟

پٹرول لیوی، 100 روپے ریلیف اور روزانہ قیمتوں کا کھیل: پاکستان کا نظام عالمی معیار پر کہاں کھڑا ہے؟

اسلام آباد: پاکستان میں پٹرولیم لیوی ختم کرنے یا کم کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، لیکن اس بحث کو صرف حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی معاشی تجربے کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے،بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک پٹرول پر ٹیکس یا لیوی وصول نہیں کرتے، کیا پاکستان میں اس کا بوجھ غیر معمولی ہے، اور کیا موجودہ 100 روپے فی لیٹر ریلیف واقعی عام آدمی کو مؤثر فائدہ پہنچاتا ہے؟
سب سے پہلے یہ حقیقت واضح کرنا ضروری ہے کہ دنیا کے بیشتر خوشحال ممالک میں پٹرول پر ٹیکس ختم نہیں کیا گیا بلکہ مختلف ناموں سے وصول کیا جاتا ہے،امریکہ میں وفاقی ایکسائز ٹیکس کے علاوہ ریاستی ٹیکس بھی عائد ہوتے ہیں؛ جنوری 2026 میں وفاقی اور اوسط ریاستی ٹیکس ملا کر پٹرول پر تقریباً 51.67 سینٹ فی گیلن تھے،برطانیہ میں پٹرول پر فی لیٹر ’’فیول ڈیوٹی‘‘ عائد ہے جو یکم ستمبر 2026 سے 53.95 پینس فی لیٹر ہوگئی، جبکہ جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز یا دیگر ایندھن ٹیکس وصول کرتے ہیں
یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ پٹرول پر ٹیکس یا لیوی صرف پاکستان میں ہے،اصل سوال ٹیکس کی سطح، اس کے استعمال، قیمت طے کرنے کے طریقہ کار اور اس کے بوجھ کی تقسیم کا ہے،او ای سی ڈی کے مطابق کئی ترقی یافتہ ممالک میں پٹرول پر ٹیکس کا بوجھ خاصا زیادہ ہے،اس کے جائزے میں امریکہ میں صارف کی پٹرول قیمت کا تقریباً 18.6 فیصد اور نیدرلینڈز میں 64.9 فیصد تک ٹیکس کا حصہ ریکارڈ کیا گیا تھا
پاکستان میں بھی لیوی کو عالمی معیار سے بالکل الگ چیز سمجھنا درست نہیں،15 ستمبر 2026 کو پٹرول کی سرکاری قیمت 380.24 روپے فی لیٹر ہوگئی،اسی روز پٹرولیم ڈویژن کے قیمتوں کے ڈھانچے کے مطابق پٹرول پر پٹرولیم لیوی 80 روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی بھی عائد ہے،اس حساب سے صرف 85 روپے کی دونوں لیویز موجودہ پٹرول قیمت کا تقریباً 22 فیصد بنتی ہیں،کسٹمز ڈیوٹی شامل کی جائے تو حکومتی محصولات کا حصہ مزید بڑھ جاتا ہے،مئی 2026 کے سرکاری پارلیمانی جواب میں بھی پٹرول پر ٹیکس، ڈیوٹی اور لیوی ملا کر قیمت کا تقریباً 32 فیصد حصہ بتایا گیا تھا، اگرچہ اس وقت قیمت کا ڈھانچہ موجودہ قیمت سے مختلف تھا
یہاں سے بحث کا دوسرا اور زیادہ اہم پہلو سامنے آتا ہے،کیا غریب آدمی کو پٹرول سستا کرکے فائدہ پہنچانا بہتر ہے یا براہ راست نقد یا ہدفی امداد دینا؟
موجودہ حکومت نے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور دیگر دو یا تین پہیوں والی گاڑیوں کو مخصوص مقدار تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو بھی محدود مقدار پر ریلیف دیا جائے گا،اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس منصوبے کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے اور اسے ڈیجیٹل فیول پاس کے ذریعے مخصوص صارفین تک پہنچانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے
معاشی ماہرین کی عالمی تحقیق تاہم ایک اہم فرق واضح کرتی ہے،عام پٹرول سبسڈی اور ہدفی امداد ایک چیز نہیں ہیں،آئی ایم ایف کے مطابق وسیع پیمانے کی ایندھن سبسڈیز بظاہر صارفین کو فوری ریلیف دیتی ہیں لیکن اکثر ان کا بڑا فائدہ زیادہ ایندھن استعمال کرنے والے نسبتاً خوشحال طبقات کو بھی پہنچتا ہے، جبکہ حکومت کو اس کے لیے اضافی قرض، زیادہ ٹیکس یا ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے،آئی ایم ایف کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ اگر ریلیف دینا ضروری ہو تو اسے کم آمدنی والے طبقات تک زیادہ براہ راست اور ہدفی انداز میں پہنچانا زیادہ مؤثر ہے
اس لحاظ سے پاکستان کا موجودہ 100 روپے فی لیٹر منصوبہ پرانی طرز کی ’’سب کے لیے پٹرول سستا‘‘ سبسڈی سے مختلف ہے،اگر واقعی موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود مقدار میں ڈیجیٹل طریقے سے رقم پہنچتی ہے تو اقتصادی اعتبار سے یہ عمومی سبسڈی کے مقابلے میں زیادہ قابل دفاع ماڈل ہوسکتا ہے،لیکن اس کی کامیابی کا انحصار شفاف رجسٹریشن، درست حقداروں کی شناخت، جعلی کلیمز کی روک تھام اور اس بات پر ہوگا کہ 75 ارب روپے واقعی کم آمدنی والے لوگوں تک پہنچتے ہیں یا نہیں، جو پاکستان کے موجودہ سیاسی معاشی نظام میں موجود بدعنوانی کی تاریخ کی موجودگی میں قریبا ناممکن نظر آتا ہے
تیسرا سوال پاکستان میں روزانہ پٹرول قیمت تبدیل کرنے کے فیصلے کا ہے،یہاں بھی عالمی معاشی اصول حکومت کے خلاف یا حق میں سیاسی نعرے سے زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں
پاکستان نے عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد روزانہ قیمتوں کا نظام اختیار کیا ہے،15 ستمبر کو پٹرول کی قیمت مزید 4.42 روپے بڑھ کر 380.24 روپے فی لیٹر ہوگئی، جبکہ ڈیزل 6.10 روپے اضافے کے بعد 409.42 روپے فی لیٹر ہوگیا
عالمی سطح پر ماہرین اصولاً خودکار قیمت ایڈجسٹمنٹ کے خلاف نہیں ہیں،آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق باقاعدہ اور خودکار قیمتوں کا نظام حکومت کو سیاسی بنیادوں پر قیمت روکنے، بعد میں اچانک بڑا اضافہ کرنے اور سرکاری سبسڈی کے بوجھ سے بچا سکتا ہے،لیکن اسی تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قیمتوں کو ہر چھوٹی عالمی تبدیلی کے ساتھ فوراً منتقل کرنا ضروری نہیں،” پرائس اسموتھنگ‘‘ کے ذریعے کئی دنوں یا ہفتوں کی اوسط استعمال کرکے اچانک بڑے اضافوں کو نرم کیا جاسکتا ہے
یہی نکتہ پاکستان کے موجودہ نظام کی سب سے بڑی معاشی بحث بن جاتا ہے،خودکار نظام اور روزانہ قیمت تبدیل کرنا ایک ہی چیز نہیں ہیں،ایک شفاف فارمولا موجود ہو تو قیمت روزانہ، ہفتہ وار یا پندرہ روزہ بنیاد پر تبدیل کی جاسکتی ہے، لیکن بنیادی شرط یہ ہے کہ عوام کو معلوم ہو کہ عالمی قیمت، ڈالر کی شرح، درآمدی لاگت، ٹیکس، لیوی، ڈیلر مارجن اور دیگر اجزا کس فارمولے کے تحت قیمت میں شامل ہورہے ہیں
اسی لیے پاکستان میں یہ تاثر کہ ’’کبھی 10 روپے بڑھا کر 2 روپے کم کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو نفسیاتی طور پر الجھایا جائے اور کوئی فائدہ اٹھائے‘‘ ایک تحقیقی مفروضہ تو ہوسکتا ہے، لیکن جب تک مخصوص اعداد و شمار، قیمتوں کے فارمولے، خریداری کی لاگت اور کسی فرد یا کمپنی کے غیر قانونی منافع کا ثبوت نہ دیا جائے اسے ثابت شدہ کرپشن قرار دینا معاشی طور پر درست نہیں ہوگا، اور اس پورے کھیل میں کرپشن کے لیے اسی فارمولے کو اپنایا گیا ہے کہ پکڑ کے دکھاؤ
اس شبہے کو ختم کرنے کا انتہائ سادہ راستہ بھی موجود ہے،حکومت ہر روز صرف نئی قیمت جاری کرنے کے بجائے ایک مکمل قابل جانچ قیمت فارمولا جاری کرے، جس میں عالمی پٹرول کی قیمت، ڈالر کا ریٹ، درآمدی و نقل و حمل کے اخراجات، ریفائنری مارجن، مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر مارجن، پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور دیگر تمام ٹیکس الگ الگ دکھائے جائیں،اس سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ عالمی قیمت کم ہونے پر پاکستان میں پٹرول کی قیمت کتنی اور کس رفتار سے کم ہونی چاہیے
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی تحقیق خود ’’غیر شفاف اور من مانے‘‘ ایڈجسٹمنٹ کے بجائے ایک واضح خودکار فارمولا اور قیمتوں میں ہموار تبدیلی کی حمایت کرتی ہے،اس کے مطابق باقاعدہ فارمولا قیمتوں کو عالمی منڈی سے جوڑتے ہوئے سیاسی مداخلت اور غیر متوقع سبسڈی کے امکانات کم کرسکتا ہے، جبکہ قیمتوں کو ہموار کرنے کا طریقہ عوام کو اچانک شدید جھٹکے سے بھی بچا سکتا ہے
چنانچہ پاکستان میں اصل معاشی بحث ’’لیوی ختم کرو یا نہ کرو‘‘ سے کہیں آگے ہے،اگر لیوی ختم کی جاتی ہے تو حکومت کو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا متبادل تلاش کرنا ہوگا،اگر لیوی برقرار رکھی جاتی ہے تو اس کی شرح اور استعمال عوام کے سامنے واضح ہونا چاہیے،اگر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جاتا ہے تو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس سے کتنے حقیقی کم آمدنی والے افراد مستفید ہوں گے اور فی مستحق شخص حکومت کا سالانہ خرچ کتنا ہوگا،اور اگر پٹرول کی قیمت روزانہ عالمی مارکیٹ کے مطابق تبدیل کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ روزانہ کا قابل تصدیق قیمت فارمولا بھی عوام کے سامنے ہونا چاہیے
اقتصادی اعتبار سے سب سے مضبوط ماڈل شاید نہ مکمل سبسڈی ہے، نہ مکمل بے لگام قیمت،زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ پٹرول کی بنیادی قیمت عالمی مارکیٹ سے شفاف اور خودکار طریقے سے منسلک ہو، قیمتوں میں ضرورت سے زیادہ روزانہ اتار چڑھاؤ کو اوسط یا قیمت بینڈ کے ذریعے محدود کیا جائے، حکومت کا ٹیکس و لیوی ڈھانچہ واضح ہو اور غریب یا کم آمدنی والے صارفین کو عمومی پٹرول سبسڈی کے بجائے براہ راست، محدود اور قابل تصدیق ریلیف دیا جائے
اس تناظر میں پاکستان کا اصل مسئلہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں بلکہ قیمت طے کرنے کے نظام پر عوام کا اعتماد ہے،اگر فارمولا شفاف ہو، اعداد و شمار کھلے ہوں اور ہر اضافے اور کمی کی معاشی وجہ عوام خود دیکھ سکیں تو 10 روپے بڑھنے اور 2 روپے کم ہونے کی سیاسی بحث بھی بہت حد تک ختم ہوسکتی ہے،لیکن اگر قیمتوں کا نظام پیچیدہ، غیر شفاف اور بار بار بدلتا رہے تو خواہ ہر فیصلہ تکنیکی طور پر درست ہی کیوں نہ ہو، اس کے گرد کرپشن اور ’’کسی کے فائدہ اٹھانے‘‘ کے شبہات پیدا ہوتے رہیں گے

قومی خبریں سے مزید