اسلام آباد جہاں کنٹینر سیاسی نظام کا حصہ بن چکا، دنیا کا واحد ’کنٹینر دارالحکومت‘ بن گیا ہے؟
اسلام آباد میں ایک بار پھر کنٹینرز کی آمد شروع ہو گئی ہے،ڈی چوک اور اس کے اطراف کی اہم شاہراہوں، ایمبیسی روڈ، سرینا چوک، نادرا چوک، ایکسپریس چوک، ایوب چوک اور شہر کے متعدد داخلی و خارجی راستوں پر سینکڑوں کنٹینرز پہنچائے جا رہے ہیں۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 400 کنٹینرز مختلف مقامات پر پہنچائے جا چکے ہیں اور مزید بھی لائے جا رہے ہیں۔ ڈی چوک کے گرد ڈبل لیئر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر سے آنے والے راستوں پر بھی ممکنہ احتجاج روکنے کے لیے رکاوٹیں تیار کی جا رہی ہیں
یہ منظر اسلام آباد کے شہریوں کے لیے نیا نہیں،گزشتہ برسوں میں احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے یا کسی بڑے سیاسی اجتماع کے خدشے پر دارالحکومت کے راستے کنٹینرز، رکاوٹوں، خندقوں اور پولیس نفری کے ذریعے بند کیے جاتے رہے ہیں،2014 کے طویل دھرنے کے دوران ریڈ زون کے راستے تقریباً 70 دن تک کنٹینرز سے بند رہے
یہ سلسلہ اس سے بھی پرانا ہے،2007 اور 2008 میں وکلا کی تحریک اور سیاسی مارچوں کے دوران اسلام آباد کے داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر کنٹینرز استعمال کیے گئے،2009 میں ڈان نے لکھا تھا کہ لانگ مارچ کے موقع پر شہر کے داخلی راستوں اور پارلیمنٹ و ایوان صدر کے اطراف ’’دسیوں، اگر نہیں تو سو سے کہیں زیادہ‘‘ کنٹینرز کھڑے کیے گئے تھے، اور اخبار نے اسے اس وقت تک ایک خاص مقصد کے لیے ایک وقت میں کنٹینرز کے سب سے بڑے استعمال میں شمار کیا تھا
2019 میں صورتحال اس سے بھی بڑے پیمانے تک پہنچی،حکام کی جانب سے ملک بھر سے ہزاروں کنٹینرز احتجاج روکنے کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں اور خیبر پختونخوا کی کنٹینر ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ صرف چند دنوں میں پولیس نے 3,000 سے زیادہ کنٹینرز قبضے میں لیے تھے
2024 میں یہ حکمت عملی دوبارہ بڑے پیمانے پر سامنے آئی،نومبر میں عمران خان کی جماعت کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کی بڑی شاہراہوں کو شپنگ کنٹینرز سے بند کیا گیا، پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے اور موبائل سروسز تک معطل کی گئیں،رائٹرز نے اس وقت دارالحکومت کو سخت حفاظتی لاک ڈاؤن میں قرار دیا تھا،Reuters) اور فنانشل ٹائمز نے بعد میں اسلام آباد میں اس مسلسل رجحان کو ’’Containeristan‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سینکڑوں کنٹینرز نے شہر کی شکل ہی بدل دی ہے اور انہیں سیاسی احتجاج کے علاوہ غیر ملکی سربراہان اور اہم شخصیات کے دوروں کے موقع پر بھی حفاظتی رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے
یہاں ایک دلچسپ عالمی تقابل سامنے آتا ہے
دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں بڑے مظاہروں کے دوران سڑکیں بند ہوتی رہی ہیں، لیکن عموماً طریقہ مختلف ہوتا ہے،بنکاک اس کی نمایاں مثال ہے،2013-14 کے سیاسی بحران میں حکومت مخالف مظاہرین نے خود شہر کے سات بڑے چوراہوں کو بند کر کے ’’Shutdown Bangkok‘‘ مہم چلائی،ہزاروں افراد نے مستقل کیمپ قائم کیے اور اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر ناکہ بندی کی
لیکن بنکاک کا تجربہ بنیادی طور پر مظاہرین کی طرف سے شہر کو بند کرنے کا تھا، جبکہ اسلام آباد میں بار بار ایسا منظر سامنے آیا ہے جہاں ریاست خود مظاہرین کو دارالحکومت کے حساس علاقوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے شہر کے راستے پہلے سے بند کرتی ہے،یہی فرق اسلام آباد کے تجربے کو غیر معمولی بناتا ہے
کھٹمنڈو میں بھی بڑے مظاہروں کے دوران پارلیمنٹ کے قریب سڑکیں پولیس بیریئرز سے بند کی جاتی رہی ہیں،2022 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران نیو بانیشور اور پارلیمنٹ کے اطراف ٹریفک موڑ دی گئی، جبکہ 2025 کے بڑے احتجاج میں بھی پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستے پولیس نے بند کیے
مگر ان مثالوں میں بھی اسلام آباد جیسا ایک مستقل انتظامی نمونہ دکھائی نہیں دیتا جس میں احتجاج کے امکان پر دارالحکومت کے متعدد داخلی راستوں، مرکزی چوراہوں اور ریڈ زون کے گرد بڑے پیمانے پر شپنگ کنٹینرز پہلے سے منتقل کر دیے جائیں
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے،اسلام آباد صرف احتجاج کے موقع پر ہی بند نہیں ہوتا،غیر ملکی سربراہان، اہم عالمی اجلاسوں اور اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران بھی شہر کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کے نام پر غیر معمولی نقل و حرکت اور سڑکوں کی بندش دیکھی جاتی رہی ہے،اس طرح شہریوں کے لیے دارالحکومت کی بنیادی شاہراہیں کبھی سیاسی احتجاج اور کبھی ریاستی پروٹوکول کے باعث محدود ہوتی ہیں
نتیجتاً اسلام آباد میں کنٹینر اب محض سامان منتقل کرنے والی گاڑی نہیں رہا،وہ پاکستان کے سیاسی نظام کی ایک علامت بن چکا ہے
کنٹینر یہاں ایک ایسی لکیر کھینچتا ہے جس کے ایک طرف ریاستی ادارے، پارلیمنٹ اور ریڈ زون ہیں اور دوسری طرف وہ شہری ہیں جو احتجاج، دھرنے یا لانگ مارچ کے ذریعے اسی ریاستی نظام تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایک دارالحکومت کو بار بار بند کرنے کا طویل المدتی اثر کیا ہوتا ہے،جب ہر بڑے سیاسی احتجاج کے ساتھ سکول، کاروبار، دفاتر، سفارتی علاقے، ہسپتالوں تک رسائی اور شہریوں کی روزمرہ آمدورفت متاثر ہونے لگے تو مسئلہ صرف امن و امان کا نہیں رہتا بلکہ شہری حکمرانی اور ریاستی صلاحیت کا سوال بھی بن جاتا ہے
2017 کے فیض آباد دھرنے کے دوران شپنگ کنٹینرز نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اہم راستے بند کر دیے تھے اور واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے جانے سے دارالحکومت کے معمولات شدید متاثر ہوئے
2024 میں بھی مسلسل احتجاجی لاک ڈاؤن کے باعث مقامی شہریوں میں یہ سوال اٹھا کہ کیا دارالحکومت کو ہر بڑے سیاسی خطرے کے جواب میں ایک قلعے میں تبدیل کرنا طویل مدت میں قابل عمل حکمت عملی ہے ،دستیاب گینیز ریکارڈز میں شپنگ کنٹینرز کے استعمال کے متعدد ریکارڈ موجود ہیں، لیکن کسی احتجاج کے خوف سے کسی قومی دارالحکومت کو سب سے زیادہ شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کرنے کا کوئی مستند گینیز ریکارڈ سامنے نہیں آتا،مثال کے طور پر گینیز نے 2025 میں ایک ٹی وی شو کے سیٹ پر 77 شپنگ کنٹینرز کے استعمال کا ریکارڈ درج کیا، مگر یہ احتجاج یا دارالحکومت کی ناکہ بندی سے متعلق نہیں تھا
اس لیے اسلام آباد کو ابھی “گینیز ریکارڈ ہولڈر‘‘ کہنا درست نہیں ہوگا،البتہ دستیاب تاریخی شواہد ایک زیادہ دلچسپ بات ضرور بتاتے ہیں،دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں احتجاج اور سیاسی بحران کے دوران راستے بند کرنا غیر معمولی نہیں، لیکن اسلام آباد میں شپنگ کنٹینرز کے ذریعے دارالحکومت کی ناکہ بندی ایک بار بار دہرایا جانے والا اور کئی دہائیوں میں پھیلتا ہوا انتظامی طریقہ بن چکا ہے
شاید اسی لیے فنانشل ٹائمز کا ’’Containeristan‘‘ کا استعارہ محض ایک صحافتی جملہ نہیں بلکہ اسلام آباد کی سیاسی زندگی کی ایک علامت بن گیا ہے
دنیا کے دوسرے دارالحکومتوں میں احتجاج ہوتے ہیں، حکومتیں مظاہرین کو کنٹرول کرتی ہیں، سڑکیں بند ہوتی ہیں اور پولیس و فوج تعینات ہوتی ہے،لیکن جب کسی دارالحکومت میں شہری کو یہ اندازہ ہونے لگے کہ اگلا سیاسی احتجاج کب ہوگا، اس سے پہلے ہی کنٹینرز کہاں کہاں پہنچ جائیں گے، تو پھر کنٹینر صرف سکیورٹی کا سامان نہیں رہتا
وہ دارالحکومت کے سیاسی مزاج کا حصہ بن جاتا ہے





