امریکی پوسٹل سروس کے نظام میں خامیاں، پرائمری انتخابات کے بیلٹ غلط تاریخوں اور تاخیر کا شکار ہونے کا انکشاف

امریکی پوسٹل سروس کے نظام میں خامیاں، پرائمری انتخابات کے بیلٹ غلط تاریخوں اور تاخیر کا شکار ہونے کا انکشاف

واشنگٹن: امریکی پوسٹل سروس کے انسپکٹر جنرل کی نئی آڈٹ رپورٹ نے رواں سال کے پرائمری انتخابات کے دوران ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ سنبھالنے کے نظام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن کے باعث بعض بیلٹ غلط تاریخ کی ڈاک مہر لگنے، تاخیر سے پہنچنے یا انتخابی حکام کے مقررہ وقت تک نہ پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوئے
4 ستمبر کی تاریخ کی اس آڈٹ رپورٹ کے مطابق پوسٹل سروس کے متعدد مراکز میں عملے کو انتخابی بیلٹ سنبھالنے کے طریقہ کار کی مناسب تربیت حاصل نہیں تھی، بعض مقامات پر بیلٹ کی نقل و حرکت کی درست نگرانی نہیں کی جا رہی تھی اور ضروری کارروائی میں تاخیر کے باعث انتخابی ڈاک کے بروقت پہنچنے پر سوالات پیدا ہوئے
آڈٹ کے دوران 8 ریاستوں میں 9 میل پروسیسنگ مراکز اور 73 ڈلیوری یونٹس کا جائزہ لیا گیا،رپورٹ کے مطابق 73 میں سے 22 ڈلیوری یونٹس، یعنی تقریباً 30 فیصد، میں انتخابی ڈاک سے متعلق تربیتی مواد موجود نہیں تھا،بعض مقامات پر مقامی انتظامیہ اور ملازمین اس بات سے بھی پوری طرح واقف نہیں تھے کہ انتخابی بیلٹ کو کس طریقے سے پروسیس کیا جانا چاہیے
غلط تاریخ کی ڈاک مہر بھی ایک اہم مسئلہ سامنے آئی،82 مراکز میں سے 10، یعنی تقریباً 12 فیصد، کے انتظامی اہلکار بیلٹ پر ڈاک مہر لگانے کے درست طریقہ کار سے واقف نہیں تھے،پانچ میل پروسیسنگ مراکز میں ہاتھ سے مہر لگانے والے اہلکاروں نے بعض بیلٹ پر غلط تاریخیں ثبت کیں،پنسلوانیا کے ایک مرکز میں پرائمری انتخابات کے دن 56 بیلٹ پر غلط تاریخ کی مہر لگ گئی
ایک اور واقعے میں پنسلوانیا کے ہیریس برگ کے ایک مرکز میں 108 بیلٹ دوسرے میل کے ساتھ رکھ دیے گئے اور انہیں انتخابات کے روز صبح خصوصی طور پر پٹسبرگ روانہ کرنا پڑا تاکہ وہ شمار کیے جا سکیں،آڈٹ کے مطابق 82 مراکز میں سے 13 میں روزانہ انتخابی ڈاک کی روانگی سے متعلق لازمی طریقہ کار بھی مکمل نہیں کیا جا رہا تھا
یہ خامیاں اس لیے اہم ہیں کہ 14 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں ایسے بیلٹ شمار کیے جاتے ہیں جن پر انتخابی دن تک پوسٹل سروس کی مہر لگی ہونا ضروری ہے،اس لیے غلط یا تاخیر سے لگنے والی ڈاک مہر بعض صورتوں میں ووٹ کے مسترد ہونے کا سبب بن سکتی ہے
تاہم آڈٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ مجموعی طور پر پوسٹل سروس کی کارکردگی ناکام نہیں رہی،فروری سے مئی 2026 کے دوران اس کے ذریعے پروسیس کیے گئے انتخابی اور سیاسی میل کی بروقت پروسیسنگ کی شرح 97.75 سے 98.99 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ تقریباً 6.3 ملین ایسے بیلٹ جنہیں ٹریک کیا جا سکا، ان میں تقریباً 99 فیصد کو پوسٹل سروس نے بروقت پروسیس کیا،ان اعداد و شمار میں “بروقت” سے مراد پوسٹل سروس کے اندر بیلٹ کی پروسیسنگ ہے، لازماً انتخابی دفتر تک مقررہ وقت پر پہنچنا نہیں
پوسٹل سروس کے انسپکٹر جنرل نے 11 سفارشات پیش کی ہیں، جن میں ملازمین کی تربیت بہتر بنانا، ہاتھ سے لگائی جانے والی ڈاک مہروں کی تاریخ کی تصدیق، بیلٹ کی مسلسل ٹریکنگ، تاخیر سے آنے والی انتخابی ڈاک کی نگرانی اور آپریشنل تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق انتظامی اقدامات شامل ہیں،پوسٹل سروس نے 10 سفارشات سے اتفاق کیا، جبکہ ایک سفارش سے اختلاف کیا
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا نظام مزید سیاسی اور قانونی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مارچ کے انتظامی حکم کے تحت پوسٹل سروس کے کردار میں نئی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں اور ان پر سپریم کورٹ میں قانونی کارروائی جاری ہے،آڈٹ نے ان نئی تبدیلیوں کے نفاذ کا جائزہ نہیں لیا، تاہم انتخابی ماہرین نے کہا ہے کہ بنیادی انتخابی ڈاک کی موجودہ پروسیسنگ میں سامنے آنے والی خامیاں اس سوال کو اہم بناتی ہیں کہ نومبر میں اس سے کہیں زیادہ بڑے حجم اور نئے تقاضوں کو پوسٹل سروس کس حد تک مؤثر طریقے سے سنبھال سکے گی
پوسٹل سروس نے جواب میں تسلیم کیا کہ بعض ملازمین نے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر بیلٹ میل کی کارکردگی مضبوط رہی اور بعض واقعات کو الگ تھلگ واقعات قرار دیا،ادارے نے آڈٹ کی اصلاحی سفارشات پر عمل درآمد کا بھی عزم ظاہر کیا ہے

قومی خبریں سے مزید