پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کے 1,914 واقعات، زیادہ تر ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے

پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کے 1,914 واقعات، زیادہ تر ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے

پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے بڑھتے واقعات نے بچوں کے تحفظ کے نظام کی سنگین کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران بچوں پر تشدد اور زیادتی کے 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں تقریباً 80 فیصد واقعات پنجاب میں سامنے آئے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 57 فیصد واقعات شہری علاقوں جبکہ 43 فیصد دیہی علاقوں میں رپورٹ ہوئے
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ بچوں کو خطرہ اکثر اجنبی افراد سے نہیں بلکہ اپنے جاننے والوں سے ہوتا ہے رپورٹ کیے گئے واقعات میں تقریباً 43 فیصد ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں کے اندر پیش آئے یہ صورتحال اس تصور کو غلط ثابت کرتی ہے کہ گھر اور قریبی حلقہ ہر حال میں بچوں کے لیے محفوظ جگہ ہوتے ہیں
سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے والوں کو کسی صورت سزا سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے تاہم اصل مسئلہ صرف واقعات کا سامنے آنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور کتنے متاثرہ بچے خوف، بدنامی، خاندانی دباؤ یا سماجی رویوں کے باعث خاموش رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں
پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں اور خواتین و بچوں سے متعلق مقدمات کے اندراج، تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے خصوصی نظام بھی قائم کیا گیا ہے، لیکن موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون بنانا کافی نہیں قانون پر فوری اور مؤثر عمل درآمد، ملزمان کو سزا، متاثرہ بچوں کا تحفظ اور خاندانوں کو قانونی و نفسیاتی مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے
ماضی میں قصور میں بچوں کے استحصال کا بڑا اسکینڈل اور 2018 میں زینب انصاری کے زیادتی اور قتل جیسے انتہائی افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے، مگر ایسے واقعات کے باوجود بچوں کے تحفظ کے قومی نظام میں وہ بنیادی تبدیلیاں نہیں آسکیں جن کی ضرورت تھی
ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق صرف مقدمہ درج ہوجانا بچے کے تحفظ کی ضمانت نہیں ضروری ہے کہ اسکولوں، گھروں اور معاشرے میں بچوں کو محفوظ اور غیر محفوظ رویوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے، والدین اور اساتذہ کو تربیت دی جائے، شکایت کے محفوظ راستے فراہم کیے جائیں اور متاثرہ بچوں کو طبی، قانونی اور نفسیاتی مدد فوری طور پر دی جائے
بچوں کے خلاف زیادتی صرف ایک جرم نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی پر اثر ڈالنے والا صدمہ ہے ایسے واقعات بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت، تعلیم اور مستقبل کو شدید متاثر کرسکتے ہیں اور بعض صورتوں میں متاثرہ افراد کے اندر خود کو نقصان پہنچانے یا مستقبل میں تشدد کے رویے پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے اس لیے انصاف میں تاخیر صرف ایک قانونی ناکامی نہیں بلکہ ایک بچے کا محفوظ اور معمول کی زندگی گزارنے کا حق چھیننے کے مترادف ہے

قومی خبریں سے مزید