گھریلو تشدد میں خواتین کو انصاف دلانے کے لیے تفتیش اور عدالتی کارروائی کا انداز بدلنا ہوگا، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد اور قتل جیسے جرائم سے تحفظ دینے کے لیے صرف معاشرتی رویوں میں تبدیلی کافی نہیں بلکہ پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی میں بھی صنفی حساسیت کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی عدالت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ پولیس افسران کو ایسی تربیت دی جائے جس کے ذریعے وہ خواتین کے خلاف جرائم کی تفتیش میں موجود صنفی اور مردانہ بالادستی پر مبنی تعصبات کو پہچان سکیں اور ان سے بچ سکیں
یہ ریمارکس جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں دیے۔ 2 رکنی بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے عدالت ایک ایسے مقدمے کی سماعت کر رہی تھی جس میں حبیب اللہ نے اپنی اہلیہ عقیلہ بی بی کے قتل کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی عقیلہ بی بی کو1 201 میں کراچی میں قتل کیا گیا تھا سپریم کورٹ نے ملزم کی عمر قید اور مقتولہ کے قانونی ورثا کو 500,000 روپے معاوضہ دینے کی سزا برقرار رکھی
جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور قتل کے مقدمات میں ہر ممکن شواہد تلاش کرنے، انہیں محفوظ رکھنے اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ گھر کی نجی حیثیت کسی ایسے شخص کے لیے ڈھال نہیں بن سکتی جو اسی گھر کے اندر جرم کرکے احتساب سے بچنے کی کوشش کرے
عدالت نے گھریلو تشدد سے متعلق جرائم کو ایسے جرائم قرار دیا جنہیں ثابت کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ اکثر بند گھروں کے اندر پیش آتے ہیں جہاں ملزم کو جائے وقوعہ اور حالات پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے ایسے حالات میں ملزم شواہد مٹا سکتا ہے، جائے وقوعہ صاف کرسکتا ہے یا قتل کو خودکشی، حادثے یا کسی اجنبی کی کارروائی ظاہر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے
سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ گھریلو تشدد کے واقعات میں عموماً گھر کے اندر موجود افراد ہی ممکنہ گواہ ہوتے ہیں چونکہ یہ افراد اکثر ملزم کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس کے خلاف گواہی دینے سے گریز کرسکتے ہیں یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے جب مقتولہ شوہر کے خاندان میں بہو ہو
عدالت نے خواتین کے خلاف تشدد کے ایک اور سنگین پہلو پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض اوقات عورت کو قتل کرنے کے بعد اس کے کردار پر سوال اٹھا کر جرم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے فیصلے میں کہا گیا کہ کسی عورت کو اس کی زندگی میں بھی سکون اور عزت نہ ملے اور موت کے بعد بھی اس کے کردار کو نشانہ بنایا جائے تو یہ معاشرے میں موجود گہری مردانہ بالادستی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے
سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے خلاف گھریلو جرائم کو روایتی انداز میں دیکھا جائے اور ان مقدمات کی خصوصی نوعیت کو نظر انداز کیا جائے تو کئی سنگین جرائم سزا سے بچ سکتے ہیں عدالت کے مطابق انصاف کے نظام کی ذمہ داری ہے کہ گھر کی چار دیواری کے پیچھے چھپی حقیقت کو سامنے لایا جائے اور کسی خاتون کی زندگی کو کم اہم سمجھتے ہوئے ناقص تفتیش کی اجازت نہ دی جائے
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کسی تفتیشی افسر کی غفلت یا لاپروائی کے باعث اہم شواہد ضائع ہوجائیں یا مقدمے کی تفتیش مناسب انداز میں نہ کی جائے تو متعلقہ افسر کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے






