اسرائیلی انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ: مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی اجتماعی زندگی ختم کرنے کی منظم کوشش جاری ہے
مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسیلم نے اپنی تازہ اور جامع رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی اجتماعی زندگی کو برقرار رکھنے والی بنیادی شرائط کو منظم انداز میں ختم کر رہی ہے،تنظیم نے اپنی رپورٹ کا عنوان “دی ایلیمینیشن پروجیکٹ” رکھا ہے
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ریاستی اداروں اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں گزشتہ عرصے کے دوران تیزی آئی ہے، جس سے فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اثر پڑ رہا ہے،ان میں کام پر پہنچنے، بچوں کو اسکول اور یونیورسٹی لے جانے، طبی علاج حاصل کرنے، بلدیاتی خدمات تک رسائی، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے، اپنی زمین کاشت کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت جیسے معمول کے امور شامل ہیں
بتسیلم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی پالیسیوں کا حصہ ہیں،رپورٹ میں تشدد اور خوف، نقل و حرکت پر پابندیوں، معاشی دباؤ، سماجی و سیاسی زندگی کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی آبادی کی جبری بے دخلی کو اس عمل کے اہم پہلو قرار دیا گیا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا،بتسیلم کے مطابق اس عرصے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک، درجنوں فلسطینی آبادیاں بے گھر اور ہزاروں افراد بنیادی خدمات تک رسائی سے محروم ہوئے ہیں
تنظیم نے خاص طور پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کرنے، سڑکوں کی بندش، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی کو نمایاں کیا ہے،بتسیلم کے اپنے ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2026 میں بھی متعدد فلسطینی آبادیوں میں گھروں کی مسماری اور خاندانوں کو بے گھر کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینی علاقوں سے بے دخلی کے معاملے پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے





