فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار کی ماضی کی انتہاپسند گروپ سے وابستگی سامنے آگئی، 2017 کی شارلٹس وِل ریلی میں سفید فام بالادستی پسندوں کے ساتھ مارچ کیا

فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار کی ماضی کی انتہاپسند گروپ سے وابستگی سامنے آگئی، 2017 کی شارلٹس وِل ریلی میں سفید فام بالادستی پسندوں کے ساتھ مارچ کیا

واشنگٹن: فلوریڈا کی ریاستی اسمبلی کے لیے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار مارشل راوسن کے بارے میں نئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے 2017 میں ورجینیا کے شہر شارلٹس وِل میں ہونے والی بدنام زمانہ “یونائٹ دی رائٹ” ریلی میں سفید فام بالادستی پسندوں اور نیو نازیوں کے ساتھ مارچ کیا تھا
34 سالہ مارشل راوسن نے 18 اگست کو فلوریڈا ہاؤس ڈسٹرکٹ 10 کے ری پبلکن پرائمری انتخابات میں تقریباً 55 فیصد ووٹ حاصل کرکے پارٹی کی نامزدگی حاصل کی،ان کی شارلٹس وِل ریلی میں شرکت کی تفصیلات سب سے پہلے Talking Points Memo کی تحقیقات میں سامنے آئیں، جس کے بعد واشنگٹن پوسٹ نے بھی اس معاملے کی رپورٹ شائع کی
تحقیقات کے مطابق راوسن 2017 کی ریلی میں لیگ آف دی ساؤتھ کے ارکان کے ساتھ موجود تھے،یہ ایک نسل پرست اور یہود مخالف نیو کنفیڈریٹ گروپ ہے جو جنوبی ریاستوں کی امریکا سے علیحدگی کی حمایت کرتا رہا ہے،ویڈیو شواہد میں راوسن کو ریلی کے شرکا کے ساتھ موجود اور ان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ ایک دوسرے موقع کی تصویر میں وہ جیمز الیکس فیلڈز جونیئر کے قریب کھڑے نظر آتے ہیں، جس نے بعد میں اپنی گاڑی مظاہرین پر چڑھا دی تھی،اس حملے میں 32 سالہ ہیذر ہائر ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے
راوسن نے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا،تاہم Talking Points Memo کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بالغ زندگی میں تاریخی یادگاروں کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے عطیہ دہندگان کی سیاسی یا نظریاتی جانچ نہیں کرتے،انہوں نے شارلٹس وِل ریلی میں اپنی شرکت کی براہ راست وضاحت نہیں کی
2017 کی شارلٹس وِل ریلی امریکا میں سفید فام بالادستی کی تحریک کی بڑی سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہے،11 اور 12 اگست کو ہونے والی اس ریلی میں نو نازی، سفید فام قوم پرست اور دیگر انتہاپسند گروہ شریک ہوئے تھے،احتجاج کے دوران شدید تشدد ہوا اور ہیذر ہائر کی ہلاکت کے بعد یہ واقعہ امریکی سیاست میں نسل پرستی اور سفید فام انتہاپسندی کے حوالے سے ایک نمایاں واقعہ بن گیا
راوسن کی ماضی کی سرگرمیوں کا معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ فلوریڈا کی ریاستی اسمبلی کے لیے ری پبلکن امیدوار ہیں،ان کی انتخابی مہم کے بارے میں Talking Points Memo نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ انہیں ایسے افراد سے مالی معاونت ملی جن کے سفید فام قوم پرست تنظیموں سے تعلقات یا نسل پرستانہ سرگرمیوں کی تاریخ رہی ہے،تاہم راوسن کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے عطیہ دہندگان کی نظریاتی وابستگیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں

قومی خبریں سے مزید