او لیول اور اے لیول کے پرچے پاکستان سے باہر لیک ہونے کا امکان
او لیول اور اے لیول کے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پرچے پاکستان سے لیک ہوئے، بلکہ امکان ہے کہ لیکج بیرون ملک سے ہوئی ہو
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس میں پرچوں کی لیکج کا معاملہ زیر بحث آیا کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی نے معاملے کی تحقیقات کے بعد پاکستان سے پرچوں کے لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں پایا
حکام کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو بیرون ملک موجود سرورز تک براہ راست رسائی حاصل نہیں۔ اس وجہ سے اگر پرچے کسی بیرونی سرور کے ذریعے لیک ہوئے ہیں تو ان کے اصل مقام، طریقہ کار اور ذمہ دار افراد تک براہ راست پہنچنا مشکل ہے
حکومت نے رواں سال مئی میں کیمبرج کے امتحانی پرچوں کی مبینہ لیکج کی تحقیقات کا حکم دیا تھا یہ اقدام والدین اور طلبہ کی جانب سے بعض امتحانی پرچوں کے امتحان سے پہلے سامنے آنے کی شکایات کے بعد کیا گیا تھا تحقیقات کے لیے قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کو متعلقہ امتحانی ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی
اجلاس میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے استعمال اور فراہمی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کمیٹی نے کہا کہ طلبہ میں منشیات کے استعمال کی بڑھتی ہوئی اطلاعات فوری اور مؤثر کارروائی کی متقاضی ہیں
کمیٹی نے منشیات کی روک تھام کے لیے انسداد منشیات فورس، پولیس، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی نظام تعلیم کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ تعلیمی اداروں کے اندر اور آس پاس منشیات پہنچانے والے عناصر کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے
کمیٹی کے مطابق طلبہ کے لیے محفوظ اور منشیات سے پاک تعلیمی ماحول یقینی بنانا صرف تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ سرکاری محکموں کو بھی واضح ذمہ داری کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا





