ٹرمپ کا زیلنسکی سے روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ، عالمی ڈیزل بحران اور مہنگائی کا خدشہ

ٹرمپ کا زیلنسکی سے روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ، عالمی ڈیزل بحران اور مہنگائی کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے روس کی آئل ریفائنریوں اور ڈیزل ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور اس کا نقصان پوری دنیا کو پہنچ رہا ہے
ٹرمپ نے یہ بیان آئرلینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا ان کا کہنا تھا کہ زیلنسکی کو روس میں ڈیزل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے، تاہم اگر یوکرین روس میں دیگر اہداف کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے ٹرمپ کے مطابق ڈیزل کی پیداوار اور سپلائی کو نقصان پہنچانے والے حملے عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں
یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے روس کی آئل ریفائنریوں، ایندھن کے ذخائر اور دیگر توانائی تنصیبات پر دور مار ڈرون حملے کر رہا ہے کیف کا مؤقف ہے کہ روسی توانائی کا شعبہ جنگی مشینری اور فوجی کارروائیوں کے لیے اہم مالی اور ایندھن کا ذریعہ ہے، اس لیے ان تنصیبات کو نشانہ بنا کر روس کی جنگی صلاحیت کو کم کرنا ضروری ہے حالیہ حملوں کے باعث روس میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت سامنے آئی ہے
ٹرمپ نے امریکہ میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بھی اپنے مؤقف کی وجہ قرار دیا امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور دیگر ایسے شعبے متاثر ہو رہے ہیں جو بڑے پیمانے پر ڈیزل استعمال کرتے ہیں
ٹرمپ نے عالمی ایندھن بحران کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے بجائے روس اور یوکرین کی جنگ کو قرار دیا۔ تاہم عالمی توانائی منڈی پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، تیل کی تنصیبات پر حملوں اور اہم سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، اس لیے موجودہ بحران کے پیچھے کئی عوامل کام کر رہے ہیں
دوسری جانب روس نے بھی رواں سال اپنی تیل پیداوار کی پیش گوئی کم کر کے 17 سال کی کم ترین سطح تک پہنچا دی ہے جبکہ جنگ کے باعث 2026 اور 2027 کے لیے ایندھن کی برآمدات کے اندازوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اس صورتحال میں روسی ریفائنریوں پر مزید حملے عالمی ایندھن کی دستیابی پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں
ٹرمپ کا مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ ایک طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کی بات کر رہا ہے اور دوسری طرف عالمی سطح پر تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی صارفین اور کاروبار کے لیے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے روسی ریفائنریوں پر حملوں کو روکنے کا مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اب جنگ کے فوجی اثرات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈی پر پڑنے والے اثرات کو بھی زیادہ اہمیت دے رہا ہے

قومی خبریں سے مزید