سعودی تیل پائپ لائن اور آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے، عالمی تیل سپلائی کو بڑا خطرہ، قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ

سعودی تیل پائپ لائن اور آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے، عالمی تیل سپلائی کو بڑا خطرہ، قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ

مشرق وسطیٰ میں نئے حملوں نے پہلے سے شدید عالمی توانائی بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے سعودی عرب کی اہم مشرق مغرب تیل پائپ لائن پر حملے اور آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے
خلیج میں تازہ ترین واقعے میں برطانوی بحری سلامتی ادارے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو ایک حملہ آور چیز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو نکالنا پڑا ایران نے بھی بتایا کہ اس کے ساحل کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس میں 1 شخص ہلاک اور 4 افراد زخمی ہوئے
سعودی عرب کے جنوبی صوبے جازان میں بھی تازہ حملوں کے بعد گھروں اور ایک مسجد کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حوثیوں نے الگ سے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک سعودی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جنوبی سعودی شہروں میں گزشتہ ہفتے سے مسلسل سکیورٹی الرٹس جاری ہیں
سب سے بڑا خطرہ سعودی عرب کی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل مشرق مغرب تیل پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان سے پیدا ہوا ہے یہ پائپ لائن سعودی تیل کو آبنائے ہرمز سے بچا کر بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کا اہم متبادل راستہ ہے جمعہ کو ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد اس راستے کی ترسیل متاثر ہوئی ہے
سعودی عرب کے پاس ینبع میں موجود ذخیرہ شدہ تیل سے تقریباً 5 سے 7 دن تک برآمدات جاری رکھنے کی گنجائش بتائی گئی ہے، اگر پائپ لائن کی بندش برقرار رہی اس کے بعد عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 فیصد مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی رکاوٹوں کے باعث روزانہ کئی ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم جزیرے پریم پر قبضہ کر لیا یہ جزیرہ باب المندب کے عین درمیان واقع ہے اور بحیرہ احمر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے بحری راستے پر اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں
عالمی منڈی میں گزشتہ ہفتے خام تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے امریکہ میں ڈیزل کی خوردہ قیمت بھی 6.20 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرکے نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے
سعودی عرب نے ابھی تک پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات یا اسے دوبارہ فعال کرنے کا وقت نہیں بتایا۔ مختلف اندازوں کے مطابق مرمت میں چند دن سے کئی ہفتے تک لگ سکتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے مختلف مقامات سے دھوئیں کے بڑے بادل دکھائی دیے ہیں
یہ صورتحال پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے عالمی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور بجلی و صنعتی لاگت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت بڑھنے کا خطرہ موجود ہے
مجموعی طور پر آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ، سعودی پائپ لائن کی بندش اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی تیل سپلائی کے ایک بڑے حصے کو بیک وقت خطرے میں ڈال دیا ہے اگر یہ صورتحال چند دنوں کے بجائے کئی ہفتوں تک برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی شدید قلت اور قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ دنیا بھر کی معیشتوں پر نیا مہنگائی کا دباؤ ڈال سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید