آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی خطرے میں، عالمی تیل بحران مزید سنگین، پاکستان میں پٹرول مزید مہنگا ہونے کا خدشہ
عالمی تیل کی منڈی میں بحران مزید گہرا ہو گیا ہے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل پہلے ہی شدید متاثر ہے جبکہ یمن کے ساحل پر باب المندب کے راستے میں نئی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے دنیا کی اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں کو بیک وقت خطرات لاحق ہونے سے مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی تک تیل کی رسد مزید کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
باب المندب سے ہر سال عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ گزرتا ہے جس کی مالیت 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں میں رکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے ایشیا، یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں تک تیل پہنچانے کے متبادل راستے مزید محدود ہو سکتے ہیں
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوئی جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کی بندرگاہ موچا پر قبضہ کر لیا اس کے بعد خلیج اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی تیل اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنی مغربی ساحلی بندرگاہ ینبع تک تیل پہنچانے کے لیے مشرق مغرب پائپ لائن پر زیادہ انحصار شروع کیا تھا، لیکن اس راستے کو بھی حملوں کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے
سعودی عرب دنیا کا بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، لیکن اگست میں اس کی خام تیل کی پیداوار تقریباً 6.24 ملین بیرل یومیہ رہی جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شامل ہے تیل کی تنصیبات، جہازوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کے باعث سعودی تیل کی ترسیل پر بھی شدید دباؤ بڑھ رہا ہے
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی معمول سے بہت کم ہو چکی ہے حالیہ دنوں میں اس راستے سے صرف 7 جہاز گزرے جبکہ اس سے قبل 10 دن کی اوسط تقریباً 15 جہاز روزانہ تھی جنگ سے پہلے اس آبنائے سے روزانہ تقریباً 125 مال بردار جہاز گزرتے تھے اور دنیا کی روزانہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے منتقل ہوتا تھا
عالمی منڈی میں اس صورتحال کا فوری اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 104 سے 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر رہی ایک موقع پر برینٹ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل کے قریب بھی پہنچ گئی تھی
توانائی کے عالمی اداروں اور بڑے مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں جاری رہیں تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بعض اندازوں کے مطابق برینٹ خام تیل اس سال کے اختتام تک 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تو قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خطرہ بھی موجود ہے
عالمی توانائی کے بحران کا سب سے بڑا خطرہ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے ہے عالمی قیمت بڑھنے سے پاکستان کا تیل درآمد کرنے کا بل بڑھتا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ آتا ہے، روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور حکومت کو مقامی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت، خوراک اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے
پاکستان میں پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام اور کاروباری شعبے پر دباؤ بڑھایا ہوا ہے اگر عالمی منڈی میں تیل کی موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو آنے والے ہفتوں میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت مزید بڑھنے کا واضح خطرہ موجود ہے
عالمی سطح پر اصل تشویش صرف تیل کی موجودہ قیمت نہیں بلکہ سپلائی کے مستقل متاثر ہونے کی ہے اگر آبنائے ہرمز، باب المندب اور سعودی عرب کی متبادل تیل ترسیلی لائنیں ایک ہی وقت میں محدود رہیں تو عالمی منڈی میں تیل کی کمی کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے اور اس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا کر سکتے ہیں






