نئی آٹو پالیسی میں بڑی تبدیلی، پاکستان میں گاڑیوں کی مقامی تیاری کے بجائے عالمی برآمدات پر زور

نئی آٹو پالیسی میں بڑی تبدیلی، پاکستان میں گاڑیوں کی مقامی تیاری کے بجائے عالمی برآمدات پر زور

پاکستان نے 2026 سے 2031 کے لیے نئی آٹو موبائل اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کی ہے جس کا بنیادی مقصد صرف مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزے تیار کرنے کے بجائے ایسی صنعت تشکیل دینا ہے جو عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکے، برآمدات بڑھائے، جدید ٹیکنالوجی اختیار کرے اور ملک کے اندر حقیقی معاشی قدر پیدا کرے
مجوزہ پالیسی کے تحت کار، جیپ اور ایس یو وی بنانے والی کمپنیوں کو 2029 سے 2030 تک اپنی فیکٹری سے نکلنے والی مجموعی پیداوار کی مالیت کا 12 فیصد برآمد کرنا ہوگا اسی طرح آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے 2030 سے 2031 تک برآمدات کا ہدف 700 ملین ڈالر مقرر کیا گیا ہے پالیسی کے آخری سال تک گاڑیوں اور پرزہ جات کی مجموعی برآمدات 1.58 ارب ڈالر سالانہ جبکہ 5 سال کے دوران مجموعی برآمدات 4.59 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے
نئی پالیسی میں روایتی لوکلائزیشن کے بجائے ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن کو اہمیت دی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہوگا کہ گاڑی میں کتنے پرزے پاکستان میں بنے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پاکستانی صنعت نے حقیقت میں کتنی معاشی قدر پیدا کی اور کتنے غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت یا آمدنی ہوئی
روایتی گاڑیوں کے لیے 2030 سے 2031 تک کم از کم 40 فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف تجویز کیا گیا ہے ساتھ ہی گاڑیوں پر موجود تحفظاتی نظام بتدریج کم کرنے اور ریگولیٹری و اضافی کسٹمز ڈیوٹیز ختم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ برآمد کنندگان کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی کی سہولت دی جائے گی
تاہم پاکستان کی سب سے بڑی مشکل آٹو پارٹس کے شعبے میں بنیادی صنعتی ڈھانچے کی کمی ہے ملک میں آٹو موبائل صنعت کے لیے درکار جدید معیار کے اسٹیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات، انجینئرنگ میٹریلز اور الیکٹرانکس کی مکمل اور بڑے پیمانے کی سپلائی چین موجود نہیں اس لیے جدید گاڑیوں کے کئی مہنگے اور اہم اجزا مستقبل میں بھی درآمد کرنا پڑ سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 200,000 نئی گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں اور یہ تعداد متعدد کمپنیوں اور مختلف ماڈلز میں تقسیم ہو جاتی ہے اس محدود حجم کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے جدید ڈائی، مولڈ، ٹولنگ، ٹیسٹنگ اور پیداواری مشینری پر آنے والی بھاری لاگت پوری کرنا مشکل رہتا ہے عالمی سطح پر کامیاب آٹو موبائل صنعتوں کو عموماً بہت بڑے پیداواری حجم سے فائدہ ملتا ہے
اسی وجہ سے نئی پالیسی میں گاڑیوں کے بجائے آٹو پارٹس کے شعبے میں زیادہ بڑا موقع موجود ہے پاکستان میں تقریباً 5 ملین کاریں اور ہلکی گاڑیاں پہلے ہی سڑکوں پر موجود ہیں، جبکہ ٹریکٹر، ٹرک اور بسیں اس کے علاوہ ہیں ان پرانی گاڑیوں کو مسلسل فلٹرز، بریک، سسپنشن پارٹس، بیئرنگز، بیلٹس، ہوزز، گاسکیٹس، برقی پرزوں، لائٹس، ریڈی ایٹرز اور دیگر اسپیئر پارٹس کی ضرورت رہتی ہے
یہ بڑا مقامی مارکیٹ آٹو پارٹس بنانے والی پاکستانی کمپنیوں کو مطلوبہ پیداواری حجم فراہم کر سکتا ہے اس کے بعد یہی کمپنیاں اپنے پرزے عالمی مارکیٹ کے آفٹر مارکیٹ شعبے میں برآمد کر سکتی ہیں اور مستقبل میں عالمی گاڑی ساز کمپنیوں کی سپلائی چین کا حصہ بھی بن سکتی ہیں
نئی پالیسی میں گاڑیوں کی برآمد کا ہدف مقرر کرنا ایک اہم قدم ہے، لیکن صرف حکومتی حکم کے ذریعے عالمی مسابقت پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا بیشتر پاکستانی گاڑی ساز عالمی کمپنیوں کے نیٹ ورک سے منسلک ہیں اور اصل کمپنی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا ماڈل اور کون سا پرزہ کس ملک میں تیار کیا جائے پاکستان کو اس وقت بھارت، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے بڑے پیداواری مراکز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے
اس لیے نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کو صرف اسمبلی پلانٹ لگانے کے بجائے برآمدی عزم، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کو شامل کرنے کی شرط سے جوڑنے کی ضرورت ہوگی
مجوزہ پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گاڑیوں پر موجود تحفظاتی ٹیرف بتدریج کم کیے جائیں اس سے مقامی کمپنیوں کو آخرکار عالمی معیار اور قیمت کے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا اس عمل سے صارفین کو بھی بہتر معیار اور زیادہ مناسب قیمتوں کے انتخاب کا امکان پیدا ہو سکتا ہے
اصل کامیابی اس بات سے طے ہوگی کہ پاکستان کتنے فیصد گاڑی مقامی بنانے میں کامیاب ہوتا ہے نہیں، بلکہ یہ کہ پاکستانی کمپنیاں کون سے آٹو پارٹس بڑے پیمانے پر مسابقتی قیمت پر تیار کر سکتی ہیں، انہیں پاکستان کی موجودہ لاکھوں گاڑیوں کے لیے فروخت کر سکتی ہیں اور پھر دنیا بھر میں برآمد کر سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید