چین اور ایران سمیت کئی ممالک نے جاسوسی اور نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا
مصنوعی ذہانت اب صرف چیٹ، تصاویر یا کاروباری کاموں تک محدود نہیں رہی بلکہ حکومتیں اسے جاسوسی، نگرانی، سائبر کارروائیوں اور حساس معلومات جمع کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہیں نئی رپورٹ کے مطابق چین، ایران اور مالی سمیت کئی ممالک سے وابستہ عناصر نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے نگرانی کے کام کو زیادہ تیز اور خودکار بنانے کی کوشش کی ہے
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرنا، معلومات کا تجزیہ کرنا اور نگرانی کے لیے مخصوص افراد کی شناخت کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہوگیا ہے اس طرح کے آپریشنز میں مخالفین، صحافیوں، کارکنوں، سیاسی شخصیات اور دیگر افراد کو نگرانی کا ہدف بنایا جاسکتا ہے
اس معاملے میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ جاسوسی کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے گروہوں کو ہر کام کے لیے انتہائی جدید یا مہنگے نظام کی ضرورت نہیں رہی۔ نسبتاً کم طاقتور مصنوعی ذہانت بھی بڑی مقدار میں معلومات کو تیزی سے ترتیب دینے اور ایسے نمونے تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے جنہیں انسان کے لیے الگ الگ دیکھنا بہت مشکل ہوگا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کا دائرہ جاسوسی تک محدود نہیں مختلف ریاستی اور جرائم پیشہ گروہوں نے اسے سائبر حملوں، فریب کاری، پروپیگنڈا، حساس معلومات حاصل کرنے اور دیگر خطرناک سرگرمیوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے بعض کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو ایسے کام انجام دینے کے لیے استعمال کیا گیا جن کے لیے پہلے انسانوں کو طویل وقت درکار ہوتا تھا
چین کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کی ایک الگ تشویش بھی سامنے آئی ہے رپورٹ کے مطابق متعدد چینی مصنوعی ذہانت کمپنیوں نے جدید غیر ملکی مصنوعی ذہانت ماڈلز سے بڑی تعداد میں جوابات حاصل کرکے اپنی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کی کوشش کیاس عمل کو ماڈل ڈسٹلیشن کہا جاتا ہے امریکی حکام نے ان سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹلیشن مصنوعی ذہانت کی صنعت میں استعمال ہونے والی ایک تکنیک ہے
ایران بھی مصنوعی ذہانت اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تشویش کا مرکز ہے نئی رپورٹ میں ایران سے منسلک سرگرمیوں کو بھی مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے عالمی رجحان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں حکومتیں اپنے مخالفین، شہریوں اور بیرون ملک موجود افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر پہلے سے کہیں زیادہ انحصار کرسکتی ہیں
ماہرین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت جاسوسی کو صرف طاقتور ممالک تک محدود نہیں رکھتی بلکہ کم وسائل رکھنے والے گروہوں کے لیے بھی پیچیدہ معلوماتی کارروائیوں کی لاگت کم کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو اپنے نظام کے غلط استعمال کی نگرانی، مشکوک اکاؤنٹس کی بندش اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے پڑ رہے ہیں متعلقہ کمپنی نے بھی ایسے اکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کرنے اور حفاظتی نظام بہتر بنانے کا اعلان کیا ہے
مصنوعی ذہانت کی یہ نئی دوڑ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کی جاسوسی صرف خفیہ ایجنٹوں، فون ٹیپنگ یا روایتی سائبر حملوں تک محدود نہیں رہے گی بڑی مقدار میں ڈیٹا کو چند لمحوں میں چھاننا، لوگوں کے درمیان تعلقات تلاش کرنا، مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنا اور مختلف ذرائع سے حاصل معلومات کو ایک ساتھ جوڑنا مصنوعی ذہانت کے ذریعے کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہوتا جارہا ہے اسی لیے مصنوعی ذہانت اب عالمی سلامتی اور جاسوسی کی دوڑ کا ایک اہم حصہ بنتی جارہی ہے





