نئے نعروں سے نئی حکومت کرنے کا عزم و ارادہ
نئے صوبوں سے ’’اسلامی یونٹس‘‘ تک، کیا پاکستان کو نئے نعروں نئے نقشے کے ساتھ حکومت کرنے کی نہیں بلکہ جواب دہ ریاست، مضبوط اداروں اور حقیقی جمہوری احتساب کی ضرورت ہے؟
تحریر، آفاق فاروقی
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث تیزی سے زور پکڑتی جارہی ہے، وفاقی سطح پر نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کی بات ہورہی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی میں بھی اس موضوع پر کئی روز بحث ہوئی اور اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی کو صرف چار صوبوں کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ذریعے مؤثر طور پر چلانا مشکل ہے، دوسری طرف سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت میں قرارداد منظور کی ہے،حکومتی حلقوں میں 12 سے 15 صوبوں یا تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتوں جیسے مختلف تصورات بھی زیر بحث آئے ہیں
لیکن اس بحث کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سوال بھی گردش کررہا ہے،اگر ہر نئے انتظامی منصوبے کے نام کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ لگا دیا جائے تو شاید سب اختلاف ختم ہوجائے، اعتراض کرنے والے خاموش ہوجائیں اور عوام سے ووٹ بھی لے لیے جائیں،یہ طنز دراصل ایک زیادہ سنجیدہ مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ یہ کہ پاکستان میں انتظامی اصلاح کی بحث کہیں حقیقی حکمرانی، احتساب اور ادارہ جاتی ناکامی کے بنیادی سوالات سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ تو نہیں بن رہی؟
کراچی اس سوال کی سب سے بڑی مثال ہے،یہ شہر کبھی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور روشنیوں کا شہر سمجھا جاتا تھا، مگر شہریوں کی ایک بڑی تعداد آج ٹوٹی سڑکوں، بدترین ٹریفک، ناقص پبلک ٹرانسپورٹ، پانی کے بحران، بجلی اور گیس کے مسائل، زمینوں پر قبضوں، تجاوزات اور کمزور شہری انتظام سے دوچار ہے،سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل مسلسل حکمرانی کے دوران کراچی کے بارے میں یہ شکایات ختم ہونے کے بجائے سیاسی بحث کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہیں،حالیہ اسمبلی بحث میں بھی اپوزیشن نے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کو بدترین حکمرانی، بدعنوانی، شہری خدمات اور اختیارات کی عدم منتقلی سے جوڑا
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نیا صوبہ بنے یا نہ بنے۔ اصل سوال یہ ہے کہ نیا صوبہ بننے کے اگلے دن کیا تبدیل ہوگا؟
کیا نئی سرحد کھینچتے ہی پولیس اچانک غیر سیاسی اور میرٹ پر آجائے گی؟ کیا بیوروکریسی کے اندر سے سفارش، سیاسی مداخلت اور کرپشن ختم ہوجائے گی؟ کیا کسٹمز، ریونیو، لینڈ ریکارڈ، بلدیاتی ادارے اور ترقیاتی محکمے اچانک دیانت دار اور مؤثر ہوجائیں گے؟ کیا رینجرز یا پولیس کی کمان بدلتے ہی شہری امن بحال ہوجائے گا؟ کیا نئی صوبائی اسمبلی بننے کے ساتھ ہی وہ سیاسی کلچر بھی ختم ہوجائے گا جس میں سرکاری اداروں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی شکایات مسلسل سامنے آتی ہیں
کراچی میں زمینوں پر قبضے کے مسئلے پر حالیہ ایک تحقیقی مطالعے میں سرکاری زمینوں کی تجاوزات کے بنیادی اسباب میں کمزور لینڈ مینجمنٹ، بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور اداروں کے درمیان ناقص رابطے کی نشاندہی کی گئی،یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اختیار کس صوبے کے پاس ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اختیار استعمال کیسے کیا جاتا ہے اور اس کے استعمال پر نگرانی کون کرتا ہے
یہی وہ نکتہ ہے جسے سیاسیات اور سماجی علوم کی تحقیق بار بار سامنے لاتی ہے،عالمی بینک کے مطابق اچھی حکمرانی کا مطلب صرف انتظامی حدود یا حکومت کا نام نہیں، بلکہ اس میں عوام کے ذریعے حکومت کا انتخاب اور احتساب، مؤثر پالیسی سازی، ریاستی اداروں کی کارکردگی، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی پر قابو شامل ہیں
معروف ادارہ جاتی ماہر اقتصادیات ڈگلس نارتھ نے واضح کیاہے کہ ادارے معاشرے کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی رویوں کے لیے ترغیبات کا نظام بناتے ہیں اور ادارہ جاتی تبدیلی عموماً بتدریج، پچھلے تجربات اور موجودہ مفادات سے جڑی ہوتی ہے،ان کے نزدیک معاشرے ایک دن میں نیا ادارہ بنا کر اپنی پرانی عادتوں، مفادات اور طاقت کے رشتوں سے آزاد نہیں ہوجاتے
یہی وجہ ہے کہ ’’نیا صوبہ بناؤ، سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ ایک بہت آسان مگر خطرناک سیاسی نسخہ ہوسکتا ہے
فرانسس فوکویاما نے ریاستی نظم و نسق پر اپنی تحقیق میں مضبوط، غیر شخصی اور جواب دہ اداروں کو جدید ریاست کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے،جبکہ ریاستی صلاحیت پر سیاسی علوم کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ریاست کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ وہ پالیسی بنائے، اسے نافذ کرے، قانون سب پر یکساں لاگو کرے اور عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرسکے
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئے صوبے یا چھوٹے انتظامی یونٹس کبھی مفید نہیں ہوسکتے،بڑے اور انتہائی آبادی والے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنا بعض حالات میں حکومت کو عوام کے قریب لاسکتا ہے،لیکن اس کے لیے اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی، مالی خودمختاری، پیشہ ور بیوروکریسی، آزاد نگرانی اور مضبوط بلدیاتی ادارے بھی ضروری ہیں،خود سندھ حکومت کے وزیر بلدیات بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے باوجود مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہیں
یہاں پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا سب سے اہم تضاد سامنے آتا ہے،ہم ہر چند ماہ بعد نیا نظام تجویز کرتے ہیں، مگر موجودہ نظام کو صحیح طریقے سے چلانے اور اس کی ناکامی کا حساب لینے پر تیار نہیں ہوتے
نیا صوبہ، نیا ڈویژن، نیا ضلع، نیا بلدیاتی نظام، نیا احتسابی ادارہ، نیا قانون، نیا انتظامی ڈھانچہ، ہر ناکامی کے بعد ایک نیا ڈھانچہ تجویز کرنا آسان ہے،مشکل کام یہ ہے کہ موجودہ ادارے سے پوچھا جائے: آپ نے جو اختیار، بجٹ اور چار سال کا وقت حاصل کیا تھا، اس کے بدلے عوام کو کیا دیا؟
معیشت میں کیا بہتری آئی؟ روزگار کہاں بڑھا؟ تعلیم کے معیار میں کیا فرق پڑا؟ صحت کی سہولتیں کتنی بہتر ہوئیں؟ پولیس شہریوں کے لیے کتنی قابل اعتماد بنی؟ عدالتوں میں مقدمات کتنی تیزی سے نمٹنے لگے؟ سرکاری زمین کتنی محفوظ ہوئی؟ ٹیکس نیٹ کتنا وسیع ہوا؟ بلدیاتی اداروں کو کتنا اختیار ملا؟ سرکاری محکموں میں میرٹ کا معیار کیا بہتر ہوا؟ سرکاری اسکول، اسپتال، سڑکیں، پانی، نکاسی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ کتنی بہتر ہوئی؟
اگر ان سوالات کا جواب نہیں ہے تو نیا نقشہ اس ناکامی کا علاج نہیں، اس کی نئی پیکیجنگ ہے
اور پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ ایک طویل عرصے سے عوام کو بھی یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ہر خرابی کا حل کسی بڑے سیاسی یا آئینی اعلان میں چھپا ہے،کبھی نیا صوبہ، کبھی نیا بلدیاتی نظام، کبھی نیا احتسابی ادارہ، کبھی نئی انتظامی تقسیم،اس دوران شہریوں کی اپنی عادتیں، ریاست کے ساتھ ان کا تعلق اور قانون کی پابندی کا تصور بھی تبدیل ہوا ہے
اگر ایک دن واقعی ایک انتہائی ایماندار اور قانون پسند انتظامیہ کراچی میں آکر ہر قانون نافذ کرنے لگے تو سوال یہ بھی ہوگا کہ کیا شہری خود اس تبدیلی کو قبول کریں گے؟
جو شخص غیر قانونی تعمیر کو اپنا حق سمجھتا ہے، فٹ پاتھ پر دکان لگانا معمول سمجھتا ہے، ٹریفک قانون کو قابلِ مذاق سمجھتا ہے، بجلی یا پانی کے غیر قانونی کنکشن کو جرم نہیں سمجھتا، زمین پر قبضے کو سیاسی پشت پناہی سے جائز سمجھتا ہے، ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھتا ہے یا سفارش کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے، اسے اچانک ایک مکمل قانون پسند ریاست مل جائے تو مزاحمت صرف سیاسی طبقے کی طرف سے نہیں ہوگی، سماج کے ایک بڑے حصے کی طرف سے بھی ہوگی
یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اصلاح محض حکم جاری کرکے نہیں ہوتی،سماجی علوم میں اداروں، ریاستی صلاحیت اور جمہوریت پر ہونے والی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد، قانون کی یکساں عمل داری اور اداروں کی صلاحیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں،سیاسیات کے معروف ماہر چارلس ٹلی کے مطابق حقیقی جمہوریت میں عوام کی وسیع اور مساوی شرکت، ریاستی فیصلوں پر عوامی مشاورت اور شہریوں کو ریاست کی من مانی کارروائی سے تحفظ حاصل ہونا ضروری ہے، اور ان سب کے لیے مؤثر ریاستی صلاحیت درکار ہے
اس لیے پاکستان کے لیے شاید سب سے زیادہ فوری ضرورت نئے صوبوں سے پہلے نئے سیاسی رویے کی ہے
جمہوریت واقعی موجود ہے تو پھر سب سے طاقتور احتساب کا طریقہ عوام کا ووٹ ہے،لیکن ووٹ تب ہی حقیقی احتساب بن سکتا ہے جب انتخابات آزاد، منصفانہ اور قابل اعتماد ہوں، مخالف سیاسی جماعتوں کو برابر سیاسی میدان ملے، میڈیا آزاد ہو، انتخابی نتائج پر اعتماد ہو اور اقتدار میں آنے والی جماعت کو معلوم ہو کہ پانچ سال بعد اسے عوام کے سامنے دوبارہ جانا ہے
پاکستان کے انتخابی نظام پر حالیہ بین الاقوامی جائزوں میں بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں،2024 کے انتخابات کے بارے میں انتخابی رکاوٹوں، نتائج کے تنازعات، سیاسی جماعتوں پر پابندیوں اور انتخابی عمل میں ریاستی مداخلت کے الزامات کی نشاندہی ہوئی، جبکہ بدعنوانی کے خلاف ادارہ جاتی کارروائی کو بھی سیاسی طور پر منتخب اور غیر مؤثر قرار دیے جانے پر بڑی گہری تنقید موجود ہے
چنانچہ اگر واقعی نئے صوبے بنانے ہیں تو پہلے یہ بتایا جائے کہ ان صوبوں میں جواب دہی کا نیا نظام کیا ہوگا؟ پولیس کس کے سامنے جواب دہ ہوگی؟ بیوروکریسی کے تبادلے کون کرے گا؟ بلدیاتی اداروں کے پاس کتنا پیسہ ہوگا؟ زمین کا ریکارڈ عوام کے لیے کتنا شفاف ہوگا؟ ترقیاتی بجٹ کا آڈٹ کون کرے گا؟ منتخب نمائندے اپنی کارکردگی کی رپورٹ کہاں دیں گے؟ اور اگر وہ ناکام ہوں تو اگلے انتخابات میں عوام انہیں ہٹانے کی حقیقی آزادی رکھتے ہوں گے یا نہیں؟
ورنہ پاکستان میں نئے صوبے بھی وہی پرانے پاکستان پیدا کریں گے، صرف نقشہ نیا ہوگا، نظام وہی ہوگا
ادارہ جاتی نظریے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ معاشرے اور معیشتیں اپنے ماضی سے جڑی ہوتی ہیں، ادارے بتدریج بدلتے ہیں اور پرانے مفادات نئے ڈھانچوں میں بھی اپنا راستہ بنا لیتے ہیں
اس لیے پاکستان کو شاید آج ایک اور ’’بڑا اعلان‘‘ نہیں بلکہ ایک طویل، قابلِ پیمائش اور بتدریج اصلاحی عمل درکار ہے،آزاد اور قابل اعتماد انتخابات، مضبوط مقامی حکومتیں، میرٹ پر بیوروکریسی، غیر سیاسی پولیس، شفاف زمین ریکارڈ، مؤثر عدالتیں، آزاد آڈٹ، حقیقی احتساب، ٹیکس اور شہری قوانین کا یکساں نفاذ اور سب سے بڑھ کر اقتدار رکھنے والوں سے مسلسل جواب طلبی
نیا صوبہ اس عمل کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کا متبادل نہیں
اور اگر ہر ناکامی کے بعد نیا انتظامی نقشہ بنا کر پچھلی ناکامی کا حساب ختم کردیا جائے تو مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں رہے گا، مسئلہ یہ ہوگا کہ ریاست اپنے شہریوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی بنائے ہوئے نئے نعروں سے حکومت کرنا چاہتی ہے





