سویڈن کے انتخابات میں دائیں بازو کا فیصلہ کن موڑ، انتہائی دائیں جماعت کو حکومت میں شامل کرنے پر ووٹ
سویڈن میں 13 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو اس سوال پر اہم ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ آیا انتہائی دائیں بازو کی سویڈن ڈیموکریٹس پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر حکومت کا حصہ بنے گی یا نہیں،تازہ جائزوں میں مرکز بائیں اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے، لیکن مقابلہ انتہائی قریب ہے اور حکومت سازی کا مرحلہ دونوں جانب کے لیے پیچیدہ ہوسکتا ہے
سویڈن ڈیموکریٹس کے ووٹوں کا حصہ حالیہ جائزوں میں تقریباً 19 فیصد ہے،اس جماعت کی جڑیں نیو نازی حلقوں تک جاتی ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس نے مرکزی سیاسی دھارے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے،جماعت نے 2025 میں اپنے ماضی کے نیو نازی اور یہود مخالف نظریات پر معذرت بھی کی تھی،2022 کے بعد سے اس نے وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن کی اقلیتی حکومت کو پارلیمان میں حمایت فراہم کی ہے، لیکن اب وہ باقاعدہ حکومتی عہدوں کا مطالبہ کر رہی ہے
کرسٹرسن نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کا دائیں بازو کا اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو وہ سویڈن ڈیموکریٹس کو حکومت میں شامل کرکے ایک اکثریتی حکومت بنانا چاہتے ہیں،ان کے مطابق گزشتہ چار برس میں اس تعاون سے جرائم اور گینگ تشدد کے خلاف اقدامات، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں کمی اور پناہ کے متلاشیوں کی تعداد کم کرنے میں مدد ملی ہے،ان کی حکومت نے مستقل رہائش کے قوانین سخت کیے، فلاحی سہولتوں تک رسائی محدود کی اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی ملک بدری میں اضافہ کیا
امیگریشن اس انتخاب کا اہم موضوع بن چکا ہے،سویڈن نے 2015 میں تقریباً 163,000 پناہ گزین قبول کیے تھے، لیکن 2025 تک یہ تعداد تقریباً 96 فیصد کم ہوچکی تھی،موجودہ حکومت نے 2026 میں یورپی یونین سے باہر کے ایسے تارکین وطن کو، جن کے پاس رہائشی اجازت نامہ ہے، رضاکارانہ طور پر واپس جانے کے لیے 350,000 سویڈش کرونا، تقریباً $37,000، تک دینے کی اسکیم بھی شروع کی ہے،اس اسکیم کی سویڈن ڈیموکریٹس حمایت کرتی ہے، جبکہ مخالفین اسے معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والی پالیسی قرار دیتے ہیں
دوسری جانب مرکز بائیں اتحاد کی قیادت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما میگڈالینا اینڈرسن کر رہی ہیں،سوشل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی، لیفٹ پارٹی اور سینٹر پارٹی بنیادی طور پر فلاحی اخراجات بڑھانے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور معاشی دباؤ کم کرنے پر متفق ہیں، لیکن حکومت سازی کے معاملے میں ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں،سینٹر پارٹی نے لیفٹ پارٹی کے ساتھ ایک ہی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے، جبکہ جوہری توانائی اور دولت مند افراد پر ٹیکس جیسے معاملات پر بھی اختلاف ہے
تازہ Novus سروے کے مطابق مرکز بائیں چار جماعتوں کو مجموعی طور پر 50.7 فیصد اور موجودہ حکومت کے تین جماعتی اتحاد کے ساتھ سویڈن ڈیموکریٹس کو 48.1 فیصد حمایت حاصل ہے۔ اس سروے میں 2,292 افراد سے 6 سے 8 ستمبر کے دوران رائے لی گئی،اس سے پہلے کے ایک سروے میں بھی مرکز بائیں اتحاد کو معمولی برتری حاصل تھی، تاہم فرق مسلسل کم ہوا ہے
انتخاب میں ایک اور اہم عنصر لبرلز پارٹی ہے، جو کرسٹرسن کی حکومت کی جونیئر اتحادی ہے،حالیہ سروے میں اسے 5.8 فیصد حمایت ملی، جو پارلیمان میں داخلے کے لیے درکار 4 فیصد حد سے واضح طور پر زیادہ ہے،اس سے دائیں بازو کے اتحاد کی پارلیمانی پوزیشن نسبتاً مستحکم ہوئی ہے
سویڈن ڈیموکریٹسکے ممکنہ حکومتی کردار پر ملک میں شدید بحث جاری ہے،جماعت کے حامی کہتے ہیں کہ سویڈش زبان، ثقافت، قوانین اور روایات کو قومی سیاست میں مرکزی حیثیت ملنی چاہیے، جبکہ مخالفین کو خدشہ ہے کہ حکومت میں شامل ہونے کی صورت میں امیگریشن، کثیر الثقافتی معاشرے اور شہری آزادیوں سے متعلق پالیسی مزید سخت ہوسکتی ہے،بعض ناقدین خاص طور پر صحافت، آزادی اظہار اور احتجاج کے حق پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کر رہے ہیں
یہ انتخاب یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کے وسیع تر رجحان کا بھی حصہ ہے،فن لینڈ، اٹلی، کروشیا اور چیک جمہوریہ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں حکومت میں شریک ہوچکی ہیں، جبکہ فرانس اور جرمنی میں بھی ان جماعتوں کا اثر بڑھا ہے،سویڈن کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہاں ایک ایسی جماعت، جو کبھی سیاسی طور پر ناقابل قبول سمجھی جاتی تھی، اب ممکنہ طور پر کابینہ میں شامل ہونے کے مرحلے تک پہنچ چکی ہے
اگر دائیں بازو کی چاروں جماعتیں اکثریت حاصل کرلیتی ہیں تو حکومت سازی نسبتاً سیدھی ہوگی، کیونکہ انہوں نے اتحاد کا عہد کر رکھا ہے،اس کے برعکس مرکز بائیں اتحاد کو کامیابی کی صورت میں بھی حکومت بنانے کے لیے مشکل مذاکرات کرنا ہوں گے، کیونکہ چاروں جماعتوں کے درمیان پالیسی اختلافات موجود ہیں اور ان کی باہمی شراکت داری کی شرائط ابھی مکمل طور پر واضح نہیں
یوں 13 ستمبر کا انتخاب صرف کرسٹرسن اور اینڈرسن کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں، بلکہ سویڈن کی امیگریشن، قومی شناخت، فلاحی ریاست اور انتہائی دائیں بازو کے مستقبل کے بارے میں ایک وسیع سیاسی فیصلہ بھی ہوگا،تاہم موجودہ سروے انتہائی قریبی مقابلہ ظاہر کرتے ہیں اور حتمی نتیجہ ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئے گا





