سموگ اور بیماریوں کے خطرے کے باوجود پاکستان میں فلو ویکسینیشن نظر انداز
پاکستان میں فلو سے بچاؤ کی ویکسین کو اب بھی عوامی صحت کے اہم معاملے کے طور پر وہ توجہ نہیں مل رہی جس کی ضرورت ہے، حالانکہ سموگ، بچوں میں غذائی کمی اور مختلف بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث فلو کا خطرہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے
فلو کی ویکسین ہر سال اپ ڈیٹ کرنا پڑتی ہے کیونکہ انفلوئنزا وائرس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں تاہم پاکستان میں یہ ویکسین عام طور پر نہ تو بڑے پیمانے پر دستیاب ہے اور نہ ہی اس کے استعمال کے لیے کوئی مؤثر قومی مہم نظر آتی ہے گزشتہ سال ایک خوراک کی قیمت تقریباً 3,000 روپے تک رہی، جو بہت سے خاندانوں کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتی ہے
ماہرین کے مطابق فلو ویکسین سے بچوں، بزرگوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں کا شکار افراد کو خاص فائدہ ہوسکتا ہے ویکسین فلو کی شدت کم کرنے، ہسپتال میں داخلے کے امکانات گھٹانے اور بیماری کے باعث اسکول یا کام سے غیرحاضری کم کرنے میں مدد دیتی ہے
پاکستان میں سموگ کی صورتحال، بچوں میں غذائی کمی اور بالغ آبادی کے تقریباً ایک تہائی حصے میں ذیابیطس جیسے عوامل فلو ویکسینیشن کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں کمزور اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو ویکسین مفت یا کم قیمت پر فراہم کرنے کے لیے حکومتی پروگرام کی ضرورت ہے
برطانیہ میں بچوں، بزرگوں اور صحت کے لحاظ سے زیادہ خطرے والے افراد کو فلو ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ عام افراد کے لیے بھی فارمیسیوں کے ذریعے ویکسین دستیاب ہوتی ہے پاکستان میں بھی سرکاری صحت مراکز، بنیادی صحت کے اداروں، لیڈی ہیلتھ ورکرز، نجی کلینکس، ہسپتالوں اور فارمیسیوں کے ذریعے ویکسین کی رسائی بہتر بنائی جاسکتی ہے
صحت کے ماہرین کے مطابق اگر فلو ایک بچے سے دوسرے بچوں یا گھرانوں تک پھیلتا ہے تو بیماری کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا والدین کو علاج کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور ملازمین کی غیرحاضری سے کاروباری اداروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے
آنے والے موسم سرما میں سموگ کے باعث صورتحال مزید مشکل ہونے کا خدشہ ہے ایسے میں بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے بڑے پیمانے پر فلو ویکسینیشن مہم بیماری کے پھیلاؤ اور اس کے معاشی و صحت کے نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے





