ٹیکساس گورنر کی دوڑ میں بڑا الٹ پھیر، ایبٹ اور جینا ہینوجوسا 47، 47 فیصد پر برابر
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ اور ان کی ڈیموکریٹک حریف جینا ہینوجوسا کے درمیان انتخابی مقابلہ اچانک انتہائی قریب آگیا ہے،9 ستمبر کے N+ یونی ویژن سروے کے مطابق دونوں امیدواروں کو 47، 47 فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ 5 فیصد ووٹرز نے ابھی فیصلہ نہیں کیا،یہ سروے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریپبلکن پارٹی ٹیکساس میں اپنے پہلے وسط مدتی کنونشن کے لیے جمع ہوئی ہے
نیا سروے خاص طور پر اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ایبٹ کئی ماہ سے ہینوجوسا پر برتری رکھتے آئے تھے،اب تازہ اعداد میں یہ برتری مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے،تاہم ایک سروے کو انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا اور ریاست میں ریپبلکن امیدوار کی طویل عرصے سے موجود سیاسی برتری بھی برقرار ہے
ہینوجوسا نے اپنی مہم میں مہنگائی، رہائش کے اخراجات، تعلیم اور عام خاندانوں کے روزمرہ مالی مسائل کو مرکزی موضوع بنایا ہے اور خاص طور پر ہسپانوی ووٹروں میں حمایت بڑھانے کی کوشش کی ہے،ٹیکساس میں تقریباً 6.5 ملین اہل ہسپانوی ووٹرز ہیں، جو ریاست کے انتخابی منظرنامے میں ایک بڑا ووٹر بلاک بن چکے ہیں،حالیہ رپورٹنگ کے مطابق ہینوجوسا ہسپانوی ووٹروں میں ایبٹ سے آگے چل رہی ہیں، اگرچہ مجموعی ریاستی مقابلے میں ایبٹ کو طویل عرصے تک برتری حاصل رہی ہے
ایبٹ کے پاس انتخابی وسائل اور مالیاتی طاقت کے اعتبار سے اب بھی نمایاں برتری ہے،تازہ مالیاتی اعداد کے مطابق جولائی کے وسط تک ان کی مہم کے پاس تقریباً $67 ملین نقد موجود تھے، جبکہ ہینوجوسا کے پاس تقریباً $3 ملین تھے،ایبٹ کے پاس طویل عرصے سے ریاستی سطح پر قائم سیاسی تنظیم، وسیع شناخت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی موجود ہے
دوسری طرف ٹیکساس کے سیاسی ماحول میں کچھ تبدیلیاں بھی نمایاں ہیں،ہسپانوی ووٹروں میں ریپبلکن حمایت میں کمی، زندگی کے بڑھتے اخراجات، تعلیم اور بعض ریاستی پالیسیوں پر ناراضگی نے ڈیموکریٹس کو امید دلائی ہے کہ وہ طویل عرصے بعد ریاستی سطح پر کامیابی کے قریب پہنچ سکتے ہیں،ہینوجوسا کی مہم کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل پر توجہ دے کر وہ ایسے ووٹرز کو متحرک کرسکتی ہیں جو ماضی میں ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دیتے رہے ہیں
ایبٹ نے اپنی مہم میں سرحدی سکیورٹی، ووٹر شناخت کے قوانین، پولیس کی حمایت، ٹیکسوں میں کمی اور اسکول چوائس جیسے قدامت پسند ایجنڈے کو نمایاں کیا ہے،تاہم حالیہ سیاسی ماحول میں انہیں مہنگائی اور معاشی مسائل پر بھی توجہ دینا پڑ رہی ہے،ریاست میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی عوامی تشویش کے بعد ایبٹ نے نئے منصوبوں کی منظوری سے متعلق اپنا مؤقف بھی تبدیل کیا ہے
ٹیکساس میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی سطح پر ریپبلکن امیدواروں کا غلبہ رہا ہے اور 1994 کے بعد کوئی ڈیموکریٹ گورنر سمیت کسی ریاستی سطح کے عہدے پر کامیاب نہیں ہوا،اسی لیے موجودہ 47، 47 فیصد کا سروے تاریخی سیاسی پس منظر کے تناظر میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے
تاہم نومبر کے انتخاب تک ابھی مہم، اشتہارات، ووٹر ٹرن آؤٹ اور غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی سمت اہم کردار ادا کریں گے،تازہ سروے یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ مقابلہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب آچکا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی امیدوار کی کامیابی کو یقینی قرار دینا دستیاب شواہد سے ممکن نہیں





