ری پبلکن کنونشن میں جے ڈی وینس کا مرکزی کردار، وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی اکثریت خطرے میں

ری پبلکن کنونشن میں جے ڈی وینس کا مرکزی کردار، وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی اکثریت خطرے میں

ڈیلس : ری پبلکن پارٹی نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیلس میں اپنے دو روزہ کنونشن کے دوسرے اور آخری روز نائب صدر جے ڈی وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے مرکزی خطاب کا موقع دے کر مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بھی اہم سیاسی پیغام دیا ہے،پارٹی اس وقت ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ کی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ پر انحصار کر رہی ہے
اے پی کے مطابق امریکی تاریخ میں عام طور پر صدر کی جماعت وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی نشستیں کھوتی رہی ہے، جبکہ اس بار ری پبلکنز کو معیشت، مہنگائی اور ایران جنگ کے حوالے سے ووٹرز کی تشویش کے باعث اضافی مشکلات کا سامنا ہے،صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات اپنی تقریر میں انتخابات کو براہ راست اپنے بارے میں ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے ووٹرز سے کہا کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے ٹرمپ خود بیلٹ پر موجود ہوں
جمعرات کو وینس کا خطاب اس لیے بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا کہ ٹرمپ نے ابھی تک اپنے ممکنہ سیاسی جانشین کا نام نہیں لیا اور وینس نے بھی 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان نہیں کیا،تاہم کنونشن میں بعض ری پبلکن کارکنوں نے انہیں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا، جبکہ رون ڈی سینٹس اور مارکو روبیو کے نام بھی 2028 کی ممکنہ قیادت کے حوالے سے زیر بحث رہے
وینس سے پہلے کنونشن میں قدامت پسند رہنما چارلی کرک کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جنہیں ایک سال قبل یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا،کنونشن میں کرک کے حامیوں نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا
دوسری جانب ٹرمپ نے بدھ کی رات ری پبلکنز کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی کی صورت میں ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر دینے کا وعدہ کیا، جس پر اس منصوبے کی ممکنہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ لاگت اور عملی طریقہ کار کے حوالے سے سوالات اٹھے ہیں
یوں ڈیلاس کنونشن فوری طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن اکثریت بچانے کی مہم کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے بعد پارٹی کی ممکنہ قیادت کے لیے بھی ایک ابتدائی سیاسی اسٹیج بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید