امریکہ کو ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی قیمت ادا کرنا ہوگی ٹرمپ
واشنگٹن: ایران کے ساتھ جنگ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، مگر اس کے خاتمے کے فوری امکانات نظر نہیں آ رہے، جبکہ امریکی عوام کے لیے اس جنگ کی مالی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، ایک اندازے کے مطابق اب تک جنگ کی لاگت اوسط امریکی گھرانے پر تقریباً 1,650 ڈالر تک پہنچ چکی ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکیوں کو پٹرول سمیت زیادہ قیمتیں برداشت کرنا ہوں گی،ٹرمپ نے بدھ کو ڈیلس میں ری پبلکن وسط مدتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایک نیا دعویٰ کیا کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی
تاہم جنگ کے چھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کسی ایسے مذاکراتی معاہدے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے جن سے تنازعہ فوری طور پر ختم ہو سکے،اس دوران جنگ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ یہ مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد موجودہ مالی بوجھ اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ جائے گی
جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کا ایک اہم اثر پٹرول اور توانائی کے اخراجات پر پڑ رہا ہے،ٹرمپ امریکی عوام سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے مقصد کے لیے انہیں زیادہ قیمتیں برداشت کرنا ہوں گی
اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ پوزیشن دو بنیادی دعووں پر قائم ہے، ایک یہ کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا جنگ کے اخراجات کا جواز ہے، اور دوسرا یہ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ مالی بوجھ تیزی سے کم ہو جائے گا،تاہم جنگ جاری رہنے کے باعث امریکی گھرانوں پر اس کی لاگت فی الحال بڑھتی جا رہی ہے





