سندھ میں سہیل آفریدی کی پانچ روزہ پیش قدمی: پیپلز پارٹی کے سیاسی قلعے میں پی ٹی آئی کو راستہ کس نے دیا؟ اور کیا سہیل آفریدی کی سندھ یاترا صدر مملکت کی لندن یاترا میں طوالت کی وجہ بنے گی ؟
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا پانچ روزہ سندھ کا سیاسی دورہ ایک ایسے منظرنامے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے جس نے محض 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاری سے کہیں بڑا سیاسی سوال کھڑا کردیا ہے،گھوٹکی سے کراچی تک پھیلے اس سفر میں تحریک انصاف نے پہلی مرتبہ ایک ایسے صوبے کے وسیع جغرافیے میں اپنی سیاسی موجودگی کا مظاہرہ کیا جسے تین دہائیوں سے پیپلز پارٹی کی مضبوط سیاسی گرفت کا مرکز سمجھا جاتا ہے
سہیل آفریدی کا قافلہ گھوٹکی سے داخل ہوا، کشمور، کندھکوٹ، جیکب آباد، شکارپور، شہدادکوٹ، قمبر، لاڑکانہ، نوشہروفیروز، نوابشاہ، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈوالہیار اور حیدرآباد سے گزرتا ہوا کراچی پہنچا،تحریک انصاف کے مطابق مختلف مقامات پر کارکنوں اور شہریوں نے ان کا استقبال کیا اور متعدد اجتماعات سے وزیراعلیٰ نے خطاب کیا،خیبرپختونخوا حکومت نے بھی اس دورے کو سندھ میں تحریک انصاف کی عوامی رابطہ مہم قرار دیا ہے
یہ نقشہ اس لیے اہم ہے کہ تحریک انصاف نے سندھ میں اپنی سیاسی طاقت کا دعویٰ عموماً کراچی تک محدود رکھا تھا،اس مرتبہ پیغام اندرون سندھ تک لے جایا گیا اور لاڑکانہ جیسے شہر میں بھی قافلہ پہنچا، جو پیپلز پارٹی کی تاریخی سیاست کا علامتی مرکز سمجھا جاتا ہے،خود بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہا اور سیاسی اختلاف کے باوجود برداشت، احترام اور بقائے باہمی کی سیاست کی ضرورت پر زور دیا،سہیل آفریدی نے بھی ان کا شکریہ ادا ہے ، اور یہیں سے اس بحث کا آغاز ہوتا ہے جہاں اس دورے کی سیاسی اہمیت معمول کی جماعتی سرگرمی سے بڑھ جاتی ہے
ایک طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سندھ میں سیاسی دورے کو کھلے طور پر خوش آمدید کہا گیا، دوسری طرف تحریک انصاف کا قافلہ بغیر کسی بڑی رکاوٹ صوبے کے تقریباً پورے سیاسی نقشے کو عبور کرتا ہوا کراچی تک پہنچ گیا
البتہ کراچی کے آخری مرحلے نے تصویر کو پیچیدہ بھی کیا
حیدرآباد سے کراچی جاتے ہوئے تحریک انصاف نے سڑکوں کی بندش، راستوں میں رکاوٹوں اور بعض مقامات پر سڑکیں کھودے جانے کے الزامات عائد کیے، کوٹری کے مقام پر راستہ بند ہونے اور متبادل راستہ اختیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ کراچی ٹول پلازہ تک پہنچنے میں قافلے کو کئی گھنٹے لگے،ڈان کے مطابق پیر کی علی الصبح سہیل آفریدی کا قافلہ چھ گھنٹے سے زیادہ کے سفر کے بعد کراچی ٹول پلازہ پہنچا جہاں بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے کارکن موجود تھے
اس کے باوجود سیاسی اعتبار سے ایک اہم حقیقت سامنے آچکی تھی
تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کو سندھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سیاسی مہم چلانے سے روکا نہیں جاسکا یا روکا ہی نہیں گیا
یہی اس دورے کا سب سے اہم نتیجہ ہے
لاڑکانہ سے کراچی تک پیغام
سہیل آفریدی نے اندرون سندھ اپنے خطابات میں بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سندھ کسی ایک جماعت کی مستقل سیاسی ملکیت نہیں،شکارپور، لاڑکانہ اور دوسرے شہروں میں انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ اندرون سندھ صرف ایک سیاسی جماعت کا سیاسی میدان ہے، مگر تحریک انصاف کے اجتماعات اس تصور کو چیلنج کر رہے ہیں
27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے ان کی بنیادی اپیل بھی یہی رہی کہ یہ صرف عمران خان کی رہائی کا معاملہ نہیں بلکہ عوام کے آئینی اور سیاسی حقوق کا سوال ہے،نوابشاہ، سانگھڑ، میرپورخاص اور عمرکوٹ میں بھی انہوں نے اسی بیانیے کو آگے بڑھایا
مگر کراچی میں سہیل آفریدی کی گفتگو نے اس مہم کو ایک اور سطح پر پہنچا دیا
حیدرآباد میں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر فوجی ترجمان بھارت کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہیں تو ایسے حکمران جو بھارت سے خطرہ نہ ہونے کی بات کرتے ہیں، ان دونوں مؤقفوں میں درست کون ہے؟ یہ بیان دراصل پی ٹی آئی کے اس موجودہ سیاسی بیانیے کا حصہ تھا جس میں وہ ریاستی اور حکومتی پالیسیوں کے تضادات کو براہ راست عسکری قیادت کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے
یہ محض ایک تقریری جملہ نہیں تھا
اس میں تحریک انصاف کی موجودہ سیاست کا ایک بنیادی تضاد بھی نمایاں ہوا،ایک طرف پارٹی ریاستی اداروں کے بعض فیصلوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، دوسری طرف اس کی قیادت مسلسل ایسے بیانات دے رہی ہے جن کا اصل مخاطب سیاسی حکومت سے زیادہ ریاستی طاقت کا مرکز ہے
چارٹر طیارے نے بھی سیاسی بحث چھیڑ دی
سہیل آفریدی کے سندھ پہنچنے کے لیے خصوصی یا چارٹر پرواز استعمال کیے جانے کے معاملے نے بھی الگ سیاسی بحث پیدا کی،پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کے ساتھی چارٹر طیارے پر سندھ پہنچے اور صوبائی حکومت سے پرواز کی لاگت، مسافروں کی فہرست اور دیگر تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا، جبکہ وزیر موصوفہ کے مذکورہ دعویٰ پر ان سے بھی سوال کیا گیا کہ جب پنجاب کی وزیراعلی گیارہ ارب کے طیارے کی خریداری کا بوجھ صوبے کے خزانے پر ڈال سکتی ہیں تو وزیر اعلیٰ کے پی اپنی پارٹی کے خرچ پر چارٹر طیارہ کیوں نہیں استعمال کرسکتے ؟
دوسری طرف خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ تحریک انصاف نے کوئی چارٹر طیارہ کرائے پر نہیں لیا اور پارٹی رہنماؤں نے اپنے ٹکٹ خود خریدے
یوں سفر کا یہ پہلو بھی سیاسی تنازعہ کا حصہ بن گیا ہے، جس کی حتمی تصویر اخراجات اور سفری دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکتی ہے
اصل سیاسی سوال، پیپلز پارٹی کو پیغام یا کسی بڑے انتظام کی علامت؟
اس دورے کے بعد سیاسی حلقوں میں سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو سندھ میں اتنے وسیع پیمانے پر سیاسی سرگرمی کی گنجائش کیسے ملی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کی بحث دوبارہ سیاسی گفتگو میں داخل ہوئی ہے، یا کی گئی ہے ، ایسے ماحول میں ایک جماعت جو خیبرپختونخوا میں حکومت کر رہی ہے، سندھ کے سیاسی قلب تک پہنچ کر پیپلز پارٹی کے روایتی سیاسی دائرے کو براہ راست چیلنج کرے، تو اس کے اثرات صرف 27 ستمبر کے احتجاج تک محدود نہیں رہتے
کچھ سیاسی مبصرین اسی لیے اس دورے کو پیپلز پارٹی کے لیے ایک سیاسی پیغام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اگر تحریک انصاف کو سندھ کے اندرون علاقوں تک پہنچنے اور وہاں اپنی سیاسی سرگرمی منظم کرنے کی اجازت ملتی ہے، تو سندھ کی سیاست کو صرف پیپلز پارٹی اور مخالف جماعتوں کے روایتی مقابلے کے طور پر دیکھنا مشکل ہوجائے گا
اس تجزیے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے
کیا ریاستی طاقت کے مراکز اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی میں کوئی ایسی تبدیلی آرہی ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو دوبارہ ایک مخصوص سیاسی میدان میں سرگرمی کی گنجائش دی جا رہی ہے؟
سہیل آفریدی کا سندھ دورہ اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیتا، لیکن اس نے اسے پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ضرور کردیا ہے
کیونکہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی جماعت کی سیاسی مہم کی قیادت کرتے ہوئے دوسرے صوبے کے تقریباً پورے جغرافیے سے گزرتا ہے، اندرون سندھ جلسے کرتا ہے، لاڑکانہ میں سیاسی کارکن جمع ہوتے ہیں، نوابشاہ اور میرپورخاص میں اجتماعات ہوتے ہیں، حیدرآباد میں ریاستی بیانیے پر براہ راست سوال اٹھائے جاتے ہیں اور بالآخر کراچی پہنچ کر تحریک انصاف اپنی موجودگی کا اعلان کرتی ہے
یہ محض ایک دورہ نہیں، سیاسی گنجائش کے بدلتے ہوئے نقشے کا ایک اشارہ ہے
پیپلز پارٹی کے لیے سب سے اہم پیغام
پیپلز پارٹی کے لیے شاید اس دورے کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں کہ تحریک انصاف نے کتنے کارکن جمع کیے
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سندھ میں سیاسی مقابلے کی وہ حد، جو گزشتہ کئی برسوں سے بہت واضح سمجھی جاتی تھی، اب آگے بڑھ رہی ہے؟
تحریک انصاف نے ابھی سندھ میں پیپلز پارٹی کی انتخابی بنیاد کو توڑنے کا کوئی قابلِ پیمائش ثبوت پیش نہیں کیا،لیکن اس نے ایک سیاسی تصور ضرور توڑا ہے،یہ تصور کہ اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کے روایتی سیاسی اثر کو چیلنج کرنا تقریباً ناممکن ہے
سہیل آفریدی کے قافلے کا گھوٹکی سے کراچی تک سفر اسی لیے اہم ہے کہ اس نے سندھ کے سیاسی نقشے پر تحریک انصاف کا ایک نیا راستہ کھینچ دیا ہے
اور شاید آنے والے ہفتوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ 27 ستمبر کا احتجاج اس راستے کو ایک وقتی سیاسی مہم بناتا ہے یا سندھ میں تحریک انصاف کی مستقل سیاسی موجودگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے
کراچی پہنچ کر سہیل آفریدی نے سفر تو مکمل کرلیا، مگر اس دورے نے پاکستان کی سیاست میں ایک نیا سوال چھوڑ دیا ہے
کیا سندھ اب صرف پیپلز پارٹی کا سیاسی قلعہ رہے گا، یا اقتدار کے موجودہ نقشے میں ایک نئی دراڑ پہلے ہی نمودار ہوچکی ہے، اور اس دراڑ کو صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صحت کے پسمنظر میں لندن میں طویل قیام مذید ابھارتا نظر آرہا ہے کہ کہنے والے تو یہ تک کہتے سنائ دے رہے ہیں مملکت خداداد کے صدر آصف زرداری پر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے زیادہ دباؤ ڈالا گیا تو وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرکے ریاست کے لیے بڑی شرمندگی اور جگ ہنسائ کا سامان کرسکتے ہیں ، حالانکہ ایسے تجزیہ نگار یہ بھول جاتے ہیں پاکستان کے لیے یہ شرمندگی کوئ نہیں یا پہلی شرمندگی نہیں ہوگی کہ آج کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جب نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے ، وزارت کا تاج سر پر سجائے اسی لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر گئے تھے جس کا ارادہ یا تصور لیے ملکی صدر لندن میں آرام فرما رہے ہیں





