منڈی بہاؤالدین میں احمدی برادری کے رکن کا قتل، پاکستان میں احمدیوں کو مذہبی بنیادوں پر مسلسل خطرات کا سامنا

منڈی بہاؤالدین میں احمدی برادری کے رکن کا قتل، پاکستان میں احمدیوں کو مذہبی بنیادوں پر مسلسل خطرات کا سامنا

پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مبینہ طور پر ٹارگٹ حملے میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا پولیس کے مطابق واقعہ بدھ کی شام تقریباً ساڑھے 6 بجے مرکزی عیدگاہ روڈ پر پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے مقتول کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے
پولیس کے مطابق مقتول اپنی ورکشاپ بند کرکے گھر واپس جا رہا تھا۔ عیدگاہ کے قریب پہنچنے پر دو نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اس کا پیچھا کیا اور اس پر فائرنگ کردی۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی طور پر اسے ٹارگٹ حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم قتل کے اصل محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت ابھی سامنے نہیں آسکی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان میں احمدی برادری کو کئی دہائیوں سے مذہبی بنیادوں پر امتیازی قوانین، نفرت انگیز مہمات، عبادت سے متعلق پابندیوں اور بعض مواقع پر براہ راست تشدد کا سامنا رہا ہے۔ احمدیوں کو 1974 میں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا تھا جبکہ 1984 میں نافذ کیے گئے قوانین نے ان کی مذہبی شناخت اور بعض مذہبی سرگرمیوں کے اظہار پر مزید پابندیاں عائد کردیں
ان قوانین کے تحت احمدیوں کے لیے خود کو مسلمان ظاہر کرنا، اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا اور بعض اسلامی اصطلاحات یا مذہبی علامات کا استعمال بھی فوجداری کارروائی کا سبب بن سکتا ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان قانونی پابندیوں نے احمدی برادری کو ایک ایسے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے جہاں مذہبی شناخت کا اظہار بھی قانونی اور سماجی خطرات پیدا کرسکتا ہے
احمدیوں کی زندگیوں کو خطرہ صرف قانونی پابندیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف اوقات میں مذہبی نفرت پر مبنی قتل، ٹارگٹ حملے، عبادت گاہوں پر حملے اور ہجوم کے تشدد کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق 1984 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں کم از کم 285 احمدی قتل کیے جا چکے ہیں
ایک الگ تفصیلی ریکارڈ کے مطابق 1984 سے 2022 تک 276 احمدیوں کے مذہبی بنیادوں پر قتل درج کیے گئے تھے اس ریکارڈ میں لاہور میں 2010 کے دوران احمدی عبادت گاہوں پر ہونے والے دو بڑے حملوں میں ہلاک ہونے والے 86 افراد کو الگ رکھا گیا ہے، جس کے باعث مجموعی اعداد مختلف نظر آ سکتے ہیں
2010 میں لاہور کے دو احمدی عبادت مراکز پر مسلح حملوں میں 86 افراد ہلاک اور 124 زخمی ہوئے تھے یہ واقعہ پاکستان میں احمدی برادری کے خلاف ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملوں میں شمار ہوتا ہے
احمدی برادری کے خلاف تشدد کی ایک بڑی وجہ مذہبی انتہا پسندی اور ایسی نفرت انگیز مہمات کو قرار دیا جاتا ہے جن میں احمدیوں کو مذہبی طور پر قابل قبول نہ ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے بعض شدت پسند گروہ احمدیوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور انہیں معاشرے سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے عام شہریوں کے خلاف نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا ہوتا ہے
اس کے ساتھ ریاستی قوانین اور انتظامی اقدامات بھی احمدیوں کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ جب کسی برادری کے خلاف امتیازی قانونی پابندیاں موجود ہوں اور اسی برادری کے خلاف مذہبی نفرت بھی پھیلائی جائے تو اس کے افراد کو نہ صرف براہ راست حملوں بلکہ قانونی کارروائی، سماجی دباؤ اور مذہبی آزادی کی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے
حالیہ برسوں میں بھی احمدیوں کو ٹارگٹ حملوں اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے یورپی یونین کی پناہ سے متعلق ایک حالیہ جائزے کے مطابق دسمبر 2024 سے مئی 2025 کے دوران راولپنڈی، نوکوٹ، کراچی، قصور اور سرگودھا میں احمدیوں کے خلاف متعدد واقعات میں قتل، ہجوم کے تشدد اور ٹارگٹ فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے
ان واقعات میں مئی 2025 میں سرگودھا میں ایک معروف احمدی ڈاکٹر کو ان کے ہسپتال میں فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کا واقعہ بھی شامل تھا اپریل 2025 میں کراچی میں ایک احمدی شخص کو عبادت گاہ کے باہر ہجوم نے قتل کردیا تھا ایسے واقعات نے احمدی برادری میں تحفظ اور انصاف کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے ہیں
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق احمدیوں کے تحفظ کے لیے صرف کسی ایک واقعے کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ مذہبی نفرت، اشتعال انگیز مہمات اور امتیازی قوانین کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مجموعی ماحول کو بھی تبدیل کرنا ضروری ہے پولیس اور عدالتی اداروں کی جانب سے ٹارگٹ حملوں کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے شفاف قانونی کارروائی تک پہنچانا بھی اہم سمجھا جاتا ہے
منڈی بہاؤالدین کا تازہ واقعہ اسی وسیع تر پس منظر میں تشویش کا باعث ہے پولیس اسے بظاہر ٹارگٹ حملہ قرار دے رہی ہے، تاہم حتمی طور پر یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ مقتول کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا یا قتل کے پیچھے کوئی دوسرا محرک تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ اور حملہ آوروں کے بارے میں واضح معلومات سامنے آسکیں گی

قومی خبریں سے مزید