لندن میں شریف زرداری رابطوں کی بازگشت، عمران خان سے مبینہ ڈیل کی افواہوں نے پاکستانی سیاست میں کھلبلی مچا دی

لندن میں شریف زرداری رابطوں کی بازگشت، عمران خان سے مبینہ ڈیل کی افواہوں نے پاکستانی سیاست میں کھلبلی مچا دی

لندن ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے ممکنہ نئے سیاسی نقشے کا مرکز بن گیا ہے،صدر آصف علی زرداری کی لندن میں موجودگی، اہم حکومتی شخصیات کے ان سے رابطے اور سیاسی حلقوں میں جاری غیر معمولی سرگرمیوں نے پاکستان میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے،سوشل میڈیا پر یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا شریف اور زرداری خاندان آنے والے دنوں کے لیے کسی نئے سیاسی بندوبست پر مشاورت کر رہے ہیں اور کیا اس سرگرمی کا تعلق عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ رابطوں یا کسی ممکنہ ڈیل کی اطلاعات سے ہے
آج لندن میں صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ملاقات کی تصدیق ہوئی ہے،سرکاری بریفنگ کے مطابق ملاقات میں امن و امان، قومی سلامتی اور پاکستان کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا
یہ ملاقات اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ لندن میں اس وقت پاکستانی سیاسی قیادت اور حکومتی شخصیات کی آمدورفت غیر معمولی طور پر نمایاں ہے،تاہم اب تک ایسی کوئی معتبر تصدیق سامنے نہیں آئی کہ شریف اور زرداری خاندان کے درمیان کوئی خفیہ مشترکہ اجلاس ہوا ہے یا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی حتمی سیاسی معاہدہ طے پا چکا ہے
لیکن پاکستانی سیاست میں اس وقت اصل خبر شاید تصدیق شدہ ملاقاتوں سے زیادہ ان کے گرد پیدا ہونے والی بے چینی ہے
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختلف دعووں میں کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی سطح پر مفاہمت کی راہ نکلتی ہے تو موجودہ سیاسی بندوبست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،یہی خدشہ موجودہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی قوتوں کو مستقبل کی حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کر سکتا ہے
اسی لیے لندن میں ہونے والی ہر اہم ملاقات کو اب معمول کی سیاسی سرگرمی کے بجائے ممکنہ سیاسی نقشہ بدلنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے
پاکستانی سیاست میں اس قسم کے رابطے کوئی نئی بات نہیں،ماضی میں بھی لندن کئی مرتبہ پاکستانی سیاسی فیصلوں اور غیر رسمی مشاورت کا اہم مرکز رہا ہے،نواز شریف کی لندن میں موجودگی کے دوران شہباز شریف اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں ماضی میں بھی پاکستان کی سیاست اور انتخابات سے متعلق بڑے فیصلوں کا موضوع بنتی رہی ہیں
موجودہ صورت حال میں ایک اور اہم پہلو عمران خان کے معاملے کا ہے،ان کے بارے میں گزشتہ ہفتوں میں سیاسی اور سفارتی سطح پر بحث میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ان کے بیٹوں کے حالیہ بیانات اور ان کے علاج اور قید سے متعلق تنازعہ نے بھی پاکستان کے سیاسی بحران کو بین الاقوامی توجہ میں رکھا ہے
چنانچہ لندن کی سیاسی سرگرمیوں کو عمران خان کے معاملے سے جوڑنے والی قیاس آرائیاں اچانک پیدا نہیں ہوئیں،تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ کسی ڈیل پر اتفاق ہو چکا ہے یا شریف اور زرداری قیادت کو کسی حتمی نئے منصوبے کی اطلاع مل چکی ہے
اصل تشویش یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی شدید معاشی، سیاسی اور سلامتی کے دباؤ میں ہے،حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ عالمی بحرانوں اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی معیشت پر بھاری دباؤ پڑ رہا ہے
دوسری طرف ملک کے سیاسی میدان میں حکومت، اپوزیشن، اسٹیبلشمنٹ اور مختلف سیاسی قوتیں اپنے اپنے مفادات اور مستقبل کی پوزیشننگ کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہیں،نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ اصل فیصلے کہاں ہو رہے ہیں، کون کس سے رابطے میں ہے اور اگلے چند ہفتوں میں پاکستان کی سیاست کس سمت جانے والی ہے
یہی غیر یقینی صورت حال افواہوں کو طاقت دے رہی ہے
ایک طرف لندن میں ہونے والی ملاقاتیں سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہیں، دوسری طرف عمران خان کے معاملے میں ممکنہ پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جبکہ تیسری طرف حکومت اور اس کے اتحادی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے نئے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں
اگر واقعی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی سطح پر مفاہمت کی بنیاد پڑتی ہے تو پاکستان کا موجودہ سیاسی توازن تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے،ایسی صورت میں شریف اور زرداری خاندان اور دیگر سیاسی قوتوں کے لیے بھی نئی صف بندی ناگزیر ہو جائے گی
لیکن فی الحال اس پوری کہانی کا سب سے بڑا عنصر تصدیق شدہ سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ غیر معمولی سیاسی بے چینی اور بڑھتی ہوئی قیاس آرائیاں ہیں
پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں معیشت کو استحکام، سلامتی کو واضح پالیسی اور سیاست کو سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے، مگر تینوں محاذوں پر غیر یقینی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے
اور یہی سوال سب سے زیادہ اہم ہے،لندن میں ہونے والی ملاقاتیں محض معمول کی سیاسی سرگرمی ہیں یا پاکستان کے اگلے سیاسی باب کی تیاری شروع ہو چکی ہے

قومی خبریں سے مزید