شریف خاندان سیاسی بحالی کے لیے آخری کوششوں میں مصروف، نوجوانوں کو تقریباً مفت ای بائیک دینے کا اعلان

شریف خاندان سیاسی بحالی کے لیے آخری کوششوں میں مصروف، نوجوانوں کو تقریباً مفت ای بائیک دینے کا اعلان
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے طلبہ سے ڈاؤن پیمنٹ وصول کرنے سے روک دیا۔ انھوں نے ماہانہ قسط کے سوا دیگر واجبات کی سفارشات مسترد کر دیں اور طلبہ کیلئے ماہانہ تقریباً 3 ہزار روپے قسط مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
‎وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسی ہفتے ای بائیک پورٹل کھولنےکا حکم دیا، سی ایم الیکٹرک بائیک اسکیم کا دائرہ کار بتدریج وسیع اور سرکاری ملازمین، ڈپارٹمنٹس، ڈیلیوری بوائز تک وسیع کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ 
‎اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب ای بائیک پر انٹرسٹ اور انشورنس بھی ادا کرے گی، اسکیم میں ای بائیک کے ساتھ ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ بھی مفت ملے گا۔ 
بریفنگ کے مطابق بائیک میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری نصب ہوگی، خواہش مند طلبہ کو ای بائیک چلانے کے لیے 2 روزہ ٹریننگ مفت کرائی جائے گی۔ جبکہ اسکیم میں اہل طلبہ کو 6 ہفتوں کے اندر بائیک کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں ، ادھر ملک کے غیر جانبدار سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے شریف خاندان صوبے میں اپنی سیاسی بحالی اور ووٹ بینک کی واپسی کے لیے ایسے اقدامات کررہا ہے جو ملکی خزانے پر بوجھ ہیں ، یہ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں ملکی معشیت حکومت کی ایسی اسکیموں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تاہم شریف خاندان ہمیشہ کی طرح اپنے ووٹ بینک کے ساتھ اپنے حمایتی حلقوں کو مال بنانے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سرکاری خزانے کی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہے ، یہ تجزیہ نگار کہتے ہیں ن لیگ تاریخی طور پر ایسی اسکیمیں جاری کرنے کی عادی ہے جو عوام کو وقتی طور پر ان سے جڑے رکھنے کا باعث بنے، ماضی میں یلو کیب اسکیم سے مفت ای بائیک تک شریف خاندان متعدد ایسے پروگراموں پر عمل کرتی رہی ہے جو بعد ازاں ایک طرف معشیت پر بوجھ بنے تو دوسری طرف ملکی معشیت کے دیوالیہ ہونے کی وجہ قرار دیے گئے

قومی خبریں سے مزید