نیا معاشی رولا : سینیٹ کمیٹی کا آئی ایم ایف سے معاہدہ دوبارہ طے کرنے کا مطالبہ، 2035 تک صنعتی مراعات ختم کرنے پر حکومت کو خبردار کردیا

نیا معاشی رولا : سینیٹ کمیٹی کا آئی ایم ایف سے معاہدہ دوبارہ طے کرنے کا مطالبہ، 2035 تک صنعتی مراعات ختم کرنے پر حکومت کو خبردار کردیا

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے حکومت پر زور دیا ہے کہ برآمدی پروسیسنگ زونز اور خصوصی اقتصادی زونز سے متعلق آئی ایم ایف کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کیے جائیں، کیونکہ موجودہ پالیسی پاکستان کی صنعتی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان نے 2035 تک خصوصی اقتصادی زونز اور برآمدی پروسیسنگ زونز میں موجود موجودہ مالی اور ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،آئی ایم ایف کی دستاویزات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حکومت نے 2035 تک ان مراعات کے مکمل خاتمے کا منصوبہ قبول کیا ہے
کمیٹی کے کنوینر سینیٹر طلحہ محمود نے حکومت کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر آئی ایم ایف سے دوبارہ بات کی جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن کے نتیجے میں صنعتی یونٹس بند ہوں، سرمایہ کاری متاثر ہو یا پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو نقصان پہنچے،کمیٹی کا مؤقف تھا کہ صنعتی مراعات ختم کرنے سے پہلے ان کے حقیقی معاشی فوائد اور نقصانات کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے
معاملہ اس وقت مزید حساس ہوگیا ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت برآمدی پروسیسنگ زونز سے مقامی مارکیٹ میں اشیا کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے،وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری سیف انجم کے مطابق موجودہ نظام کے تحت ان زونز کی صنعتیں اپنی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد مقامی مارکیٹ میں فروخت کرسکتی ہیں، لیکن حکومت نے ستمبر 2026 تک اس سہولت کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ برآمدی پروسیسنگ زونز سے وابستہ صنعتیں تقریباً 800 ملین ڈالر کی برآمدات میں حصہ ڈالتی ہیں،صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پیداوار کے دوران بننے والا ناقص، کم درجے یا اضافی مال اور صنعتی فضلہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو تو کئی یونٹس کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے حکومت سے موجودہ 80:20 نظام برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اسے ختم کرنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر اور متعدد صنعتی یونٹس بند ہوسکتے ہیں
آئی ایم ایف کا مؤقف یہ ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز کو دی جانے والی ٹیکس اور دیگر مالی مراعات کاروباری شعبوں کے درمیان غیر مساوی مسابقت پیدا کرتی ہیں،اسی لیے پاکستان نے 2035 تک موجودہ مراعات ختم کرنے اور منافع پر مبنی ٹیکس چھوٹ کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات کی طرف منتقل ہونے پر اتفاق کیا ہے،حکومت نے نئے خصوصی اقتصادی یا برآمدی زونز بنانے اور موجودہ مراعات کی تجدید نہ کرنے کا عہد بھی کیا ہے
سینیٹ کمیٹی کی جانب سے آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ دراصل پاکستان کی اس مشکل کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک طرف عالمی مالیاتی ادارہ ٹیکس نظام میں یکسانیت اور مراعات کے خاتمے کو معاشی اصلاحات کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستانی صنعت کار ان مراعات کو سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی سرگرمی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں،اب حکومت کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد بھی جاری رکھے اور ساتھ ہی ایسی صنعتی پالیسی بھی برقرار رکھے جو سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعت لگانے اور برآمدات بڑھانے پر آمادہ کرسکے

قومی خبریں سے مزید