ڈی ای اے نے کینیڈین شہری کو منی لانڈرنگ سازش میں دھکیلا، عدالت نے امریکی کارروائی کو کینیڈا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے دیا
برٹش کولمبیا کی سپریم کورٹ کی ایک جج نے قرار دیا ہے کہ امریکی وفاقی ایجنٹوں نے ایک کینیڈین شہری کو منی لانڈرنگ کی سازش میں شامل ہونے پر مجبور کیا اور اس دوران رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس یعنی آر سی ایم پی سے اپنی کارروائی چھپائی عدالت نے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن یعنی ڈی ای اے کے اس رویے کو انتہائی سنگین اور کھلی غیر قانونی کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے کینیڈا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے
برٹش کلمبیا کی سپریم کورٹ کی جسٹس کیتھرین مرے نے اپنے سخت فیصلے میں کینیڈین شہری کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم دیا عدالت کے مطابق ڈی ای اے کا طرز عمل اس قدر سنگین تھا کہ امریکی حکام کی کارروائی نے کینیڈا کے قانونی دائرہ اختیار اور خودمختاری کو متاثر کیا
یہ شخص 2015 میں شروع ہونے والی ایک مبینہ منشیات اسمگلنگ سازش کے الزام میں امریکہ حوالگی کے مقدمے کا سامنا کر رہا تھا تاہم عدالت کے عوامی طور پر دستیاب فیصلے میں اس شخص کا نام، آبائی شہر اور یہاں تک کہ وہ منشیات بھی ظاہر نہیں کی گئی جسے امریکہ سے کینیڈا اسمگل کرنے کا الزام تھا
عدالتی دستاویزات کے مطابق اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی تجربہ کار ڈی ای اے خصوصی ایجنٹ کو صرف جین ڈو کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے امریکی ادارے کے مطابق کینیڈا میں اس کے 2 دفاتر ہیں، جن میں ایک اوٹاوا میں امریکی سفارتخانے کے اندر قائم ہے
عدالت کے مطابق امریکی ایجنٹ مذکورہ کینیڈین شخص کے گھر اس وقت پہنچی جب اس کے ساتھ 2 کینیڈین جاسوس بھی موجود تھے، حالانکہ وہ کینیڈین اہلکار بھی اپنے قانونی دائرہ اختیار سے باہر کارروائی کر رہے تھے
کینیڈین شخص نے عدالت کو بتایا کہ بعد میں اسے امریکی تفتیش کاروں سے ملاقات کے لیے 3 مرتبہ بلایا گیا بالآخر اس نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اسے ایک دوسرے نامعلوم شخص کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں مدد فراہم کرنا تھی
اسی تحقیقات کے دوران ڈی ای اے نے کینیڈین شخص کو ہدایت دی کہ وہ مذکورہ ہدف کے لیے ایک نامعلوم مقدار میں نقد رقم منتقل کرنے کا انتظام کرے عدالت کے مطابق امریکی تفتیش کاروں نے اسے اس منصوبے میں حصہ لینے کے لیے بیرون ملک بھیجا
جب وہ واپس کینیڈا پہنچا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کی جان خطرے میں ہے جسٹس مرے کے مطابق اس پورے معاملے میں امریکی حکام کا طرز عمل انتہائی سنگین تھا اور اس نے کینیڈا کی خودمختاری اور قانون کے احترام سے متعلق بنیادی اصولوں کو متاثر کیا
عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں کینیڈین شہری کے خلاف کارروائی روک دی گئی ہے، جس سے امریکہ کو اس کی حوالگی کی کوشش کو بڑا دھچکا پہنچا ہے فیصلے نے یہ اہم قانونی سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ غیر ملکی قانون نافذ کرنے والے ادارے کینیڈا کی اجازت اور مقامی اداروں کو مناسب اطلاع دیے بغیر کینیڈین شہریوں کے خلاف کس حد تک کارروائی کر سکتے ہیں






