سویڈن کا انتہائی کانٹے دار انتخاب، انتہائی دائیں بازو کی پہلی بار حکومت میں شمولیت کا امکان

سویڈن کا انتہائی کانٹے دار انتخاب، انتہائی دائیں بازو کی پہلی بار حکومت میں شمولیت کا امکان

سویڈن اتوار کو انتہائی سخت اور غیر معمولی طور پر قریبی پارلیمانی انتخابات میں جا رہا ہے، جہاں نتیجہ ملک کی سیاسی سمت تبدیل کر سکتا ہے،تازہ ترین رائے عامہ کے جائزے میں بائیں اور دائیں بازو کے اتحادوں کے درمیان فرق صرف 0.3 فیصد پوائنٹ رہ گیا ہے، جبکہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں مرکز بائیں اتحاد کی برتری تیزی سے سکڑ گئی ہے
مرکز بائیں اپوزیشن اتحاد کی قیادت سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما میگڈالینا اینڈرسن کر رہی ہیں، جو 4 سال اپوزیشن میں رہنے کے بعد دوبارہ وزیراعظم بننے کی مضبوط امیدوار ہیں،تاہم ان کے اتحاد کی معمولی برتری اب انتہائی غیر یقینی صورتحال میں تبدیل ہو چکی ہے
انتخاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگر دائیں بازو کی جماعتیں مجموعی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو سوئیڈن ڈیموکریٹس پہلی مرتبہ براہ راست حکومت میں شامل ہو سکتی ہیں،یہ جماعت طویل عرصے سے امیگریشن میں نمایاں کمی، سخت انضمامی پالیسیوں اور جرائم کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہے
سویڈن کی موجودہ دائیں بازو کی حکومت پہلے ہی سوئیڈن ڈیموکریٹس کی پارلیمانی حمایت پر انحصار کرتی رہی ہے، لیکن اب وزیراعظم اولف کرسٹرسن نے پہلی مرتبہ اس امکان کا اشارہ دیا ہے کہ اگر دائیں بازو دوبارہ حکومت بناتا ہے تو انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو باقاعدہ حکومتی وزارتیں بھی دی جا سکتی ہیں
یہ تبدیلی سویڈن کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے،ایک ایسا ملک جو طویل عرصے تک انسانی حقوق، پناہ گزینوں کے تحفظ اور نسبتاً کھلی امیگریشن پالیسی کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں رہا، اب امیگریشن، جرائم اور معاشی دباؤ کے باعث اپنی سیاسی ترجیحات تبدیل کر رہا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس نے بھی گزشتہ چند برسوں میں امیگریشن کے معاملے پر اپنا مؤقف پہلے کے مقابلے میں سخت کیا ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا انتخابی نعرہ نہیں رہا بلکہ مرکزی دھارے کی جماعتوں کی سیاست پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے
انتخابی مہم کے دوران جرائم، امیگریشن، مہنگائی، صحت اور فلاحی ریاست کے مستقبل جیسے مسائل ووٹروں کی ترجیحات میں نمایاں رہے ہیں،انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں خاص طور پر جرائم اور امیگریشن کو سویڈن کے موجودہ مسائل سے جوڑ کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں
اتوار کا نتیجہ اس لیے بھی تاریخی ہو سکتا ہے کہ اگر دائیں بازو اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو سویڈن ڈیموکریٹس احتجاجی اور پارلیمانی دباؤ کی سیاست سے نکل کر پہلی مرتبہ براہ راست اقتدار کا حصہ بن جائیں گے
اس طرح سویڈن کا انتخاب محض وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ اس بڑے سوال پر ریفرنڈم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا وہ ملک جسے کبھی انسانی حقوق اور کھلی امیگریشن کا عالمی نمونہ سمجھا جاتا تھا، اب اپنی سیاسی سمت نمایاں طور پر دائیں جانب موڑنے جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید