25 سال بعد بھی 9/11 کا زخم تازہ: جنہیں دیکھا تک نہیں، آج کی نسل اُن بچھڑنے والوں کے نام لے کر رو پڑے
نیویارک سانحہ 11 ستمبر کے دھشتگردانہ حملوں کی 25ویں برسی انتہائی جذباتی انداز میں منائی گئی ، جہاں نائن الیون میں جان سے جانے والے افراد کے لواحقین نے اپنے ان عزیزوں کے نام پکارے جنہیں وہ کبھی دیکھ بھی نہیں سکے
نیویارک: لوئر مین ہٹن میں منعقدہ یادگاری تقریب میں ایک کم عمر بچی اسٹیج پر آئی اور اپنی آنجہانی خالہ اور ہم نام ماریا تھریسا کونسیپسیون سانتیلان کا نام پڑھا،اس نے کہا کہ کاش اس کی خالہ اگلے روز اس کی سالگرہ میں شریک ہوتیں، وہ ان سے محبت کرتی ہے اور انہیں یاد کرتی ہے
اس کے بعد ایک کم عمر لڑکے نے اپنے دادا اور ہم نام اینڈریو ایرا روزن بلم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ’’ہم آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے،ہم آپ سے محبت کرتے ہیں،خدا امریکا کو سلامت رکھے۔‘‘
یہ مناظر اس حقیقت کی علامت تھے کہ 9/11 سانحے کو 25 سال گزر چکے ہیں،آج امریکا کی تقریباً ایک تہائی آبادی ایسی ہے جو اس المناک دن پیدا ہی نہیں ہوئی تھی، جبکہ نئی نسل سانحہ کی اندوہناک کہانی اور اذیتوں پیاروں کے فراق کی تاریخی کہانیاں سنکر بڑی ہوئ ہے اور اپنی دلی افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی اس تاریخ کو کبھی نہ بھولنے کا عزم کرتی ہے
25 سال قبل 11 ستمبر 2001 کو القاعدہ سے وابستہ 19 دہشت گردوں نے 4 مسافر طیارے اغوا کیے،2 طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرائے، تیسرا پینٹاگون سے جا ٹکرایا، جبکہ چوتھے طیارے کے مسافروں اور عملے نے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کی،یہ طیارہ واشنگٹن ڈی سی کی جانب جا رہا تھا لیکن پنسلوانیا کے علاقے شینکس وِل کے قریب ایک میدان میں گر کر تباہ ہوگیا
ان حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے اور 9/11 امریکی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملے کے طور پر آج بھی قومی حافظے کا ایک گہرا زخم ہے، جسکی یاد پوری قوم یکجہتی نئے عزم و ہمت کے ساتھ مناتی ہے اور اس حساس موقع پر ایک ہی دعا مانگتی ہے “ اے زمین و آسمان کے مالک اے ہر ذی روح کی جان پر قدرت رکھنے والے خدا ، امریکہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھتے ہوئے پوری امریکی قوم کو یکجہتی اتفاق رائے سے امریکہ کی سلامتی خوشحالی ترقی اور اسکی سربلندی کے لیے جان مال کی پروا کیے بغیر کام کرنے کی دلی توقیق عطا فرما ، God Bless America , آمین






