دن میں کتنی بار پیشاب آنا معمول ہے؟ عمر کے ساتھ بدل جاتی ہے جسم کی یہ ضرورت، عمر بڑھے تو پیشاب کی موٹی دھار بھی پتلی ہونے لگتی ہے

دن میں کتنی بار پیشاب آنا معمول ہے؟ عمر کے ساتھ بدل جاتی ہے جسم کی یہ ضرورت، عمر بڑھے تو پیشاب کی موٹی دھار بھی پتلی ہونے لگتی ہے

انسان دن میں کتنی بار پیشاب کرتا ہے، اس کا کوئی ایک مقررہ جواب نہیں، کیونکہ عمر، پانی پینے کی مقدار، ادویات اور جسمانی حالت کے ساتھ یہ معمول بدلتا رہتا ہے،ماہرین کے مطابق پیشاب کی تعداد میں کچھ اضافہ عمر بڑھنے کے ساتھ فطری بھی ہو سکتا ہے
ماہر امراضِ پیشاب کے مطابق چھوٹے بچے عموماً دن میں 6 سے 14 مرتبہ تک پیشاب کر سکتے ہیں، جبکہ نوعمر افراد میں یہ تعداد عام طور پر 4 سے 6 مرتبہ رہتی ہے،60 سال سے کم عمر بالغ افراد کے لیے دن کے دوران تقریباً 5 سے 8 مرتبہ پیشاب کرنا عمومی حد میں شمار کیا جا سکتا ہے،رات کے دوران ایک مرتبہ پیشاب کے لیے اٹھنا بھی بہت سے افراد میں معمول کا حصہ ہو سکتا ہے
60 سال کی عمر کے بعد صورتحال کچھ تبدیل ہو سکتی ہے،بعض افراد کو دن میں 10 مرتبہ تک پیشاب کی حاجت محسوس ہو سکتی ہے،عمر بڑھنے کے ساتھ گردوں کی کارکردگی میں تبدیلی، مثانے کے پٹھوں کی کمزوری اور رات کے وقت جسم میں پیشاب کو روکنے والے ہارمون کی مقدار میں کمی اس کی وجوہات میں شامل ہو سکتی ہیں
بعض ادویات بھی پیشاب کی تعداد بڑھا سکتی ہیں، خصوصاً وہ ادویات جو جسم سے اضافی پانی خارج کرتی ہیں،عمر رسیدہ مردوں میں پروسٹیٹ کے بڑھ جانے کی وجہ سے بھی بار بار پیشاب آنے، پیشاب شروع کرنے میں دشواری یا رات کو کئی مرتبہ اٹھنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے
تاہم پیشاب کی تعداد صرف عمر سے طے نہیں ہوتی،کافی، چائے، شراب اور کاربونیٹڈ مشروبات زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے بھی پیشاب زیادہ آ سکتا ہے،اسی طرح بہت زیادہ پانی پینا بھی بار بار بیت الخلا جانے کا سبب بن سکتا ہے
ماہرین کے مطابق اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ کوئی شخص دن میں کتنی مرتبہ پیشاب کرتا ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کے معمول میں اچانک کوئی تبدیلی تو نہیں آئی،اگر کوئی شخص پہلے معمول کے مطابق پیشاب کرتا تھا لیکن اچانک بہت زیادہ مرتبہ پیشاب آنے لگے، پیشاب میں جلن یا درد ہو، خون آئے، پیشاب روکنے میں دشواری ہو یا رات کو بار بار اٹھنا معمول بن جائے تو اسے طبی مشورہ لینا چاہیے
اسی طرح بہت کم پیشاب آنا، پیشاب کی شدید حاجت کے باوجود پیشاب نہ ہونا یا پیشاب کے ساتھ غیر معمولی علامات ظاہر ہونا بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
اس لیے پیشاب کے لیے دن میں کوئی ایک ’’درست‘‘ تعداد مقرر نہیں کی جا سکتی،ایک صحت مند شخص میں تعداد عمر اور معمولات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے،زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنے جسم کے معمول کو پہچانا جائے اور اس میں اچانک یا مسلسل تبدیلی کو سنجیدگی سے لیا جائے

قومی خبریں سے مزید