جمائمہ کی دولت، عمران خان کا انکار اور ایک مشہور داستان؛ طلاق کے 22 سال بعد حقیقت کیا نکلی؟

جمائمہ کی دولت، عمران خان کا انکار اور ایک مشہور داستان؛ طلاق کے 22 سال بعد حقیقت کیا نکلی؟

پاکستان میں عمران خان اور جمائمہ گولڈسمتھ کی 2004 میں ہونے والی طلاق کے بارے میں برسوں سے ایک ایسی داستان گردش کرتی رہی ہے جس نے رفتہ رفتہ تقریباً ایک افسانوی حیثیت اختیار کر لی،کہا جاتا ہے کہ جمائمہ ایک بے پناہ دولت مند خاندان کی وارث تھیں، طلاق کے موقع پر ان کی کروڑوں یا اربوں پاؤنڈ کی دولت میں سے ایک بڑا حصہ عمران خان کو مل سکتا تھا، لیکن عمران خان نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا اور ان کے اس کردار سے متاثر ہو کر عدالتی جج نے کھڑے ہو کر انہیں سلام کیا
مگر دستیاب تاریخی اور صحافتی ریکارڈ اس کہانی کی تصدیق نہیں کرتا
22 جون 2004 کو عمران خان اور جمائمہ کی 9 سالہ شادی ختم ہونے کا اعلان ہوا،اس وقت برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا کہ عمران خان نے طلاق کی بنیادی وجہ اپنی سیاسی زندگی اور پاکستان میں مستقبل کو قرار دیا تھا،جمائمہ کئی عرصے سے اپنے 2 بیٹوں کے ساتھ برطانیہ میں رہ رہی تھیں جبکہ عمران خان پاکستان میں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے،عمران خان کا کہنا تھا کہ جمائمہ نے پاکستان میں زندگی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن ان کی سیاسی زندگی نے یہ معاملہ انتہائی مشکل بنا دیا تھا
دستیاب ریکارڈ میں اس طلاق کو کسی بڑے مالی تنازع یا جائیداد کی تقسیم کی جنگ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا،اس کے برعکس، بعد کی سوانحی تفصیلات کے مطابق دونوں کے درمیان معاملات نسبتاً خوشگوار انداز میں طے ہوئے،جمائمہ طلاق کے بعد دونوں بیٹوں کے ساتھ برطانیہ واپس چلی گئیں،بچوں کے پاکستان آنے جانے اور عمران خان کے لندن میں ان سے ملاقات کرنے کے انتظامات طے ہوئے اور یہ تعلق طلاق کے بعد بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا
یہاں اس مشہور داستان کا دوسرا اہم پہلو سامنے آتا ہے،جمائمہ کی دولت
جمائمہ واقعی برطانیہ کے انتہائی دولت مند گولڈسمتھ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،ان کے والد سر جیمز گولڈسمتھ ایک معروف ارب پتی کاروباری شخصیت تھے،لیکن 2002 میں شائع ہونے والی دولت مند نوجوان برطانوی شخصیات کی ایک فہرست میں جمائمہ کی اپنی دولت تقریباً 20 ملین پاؤنڈ بتائی گئی تھی
یہ رقم بھی معمولی نہیں تھی، لیکن اسے 12 ارب پاؤنڈ یا اس سے کہیں بڑی دولت قرار دینا دستیاب ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا طلاق کے وقت جمائمہ کی دولت کا نصف حصہ عمران خان کو دینے کی کوئی عدالتی پیشکش ہوئی تھی؟
دستیاب معتبر ذرائع میں ایسی کوئی دستاویز، عدالتی کارروائی یا مستند رپورٹ سامنے نہیں آتی جس سے یہ ثابت ہو کہ عمران خان نے جمائمہ کی دولت کا نصف لینے سے انکار کیا تھا،نہ ہی اس مشہور دعوے کا کوئی قابل اعتماد ثبوت ملتا ہے کہ عدالتی جج نے اس موقع پر کھڑے ہو کر عمران خان کو سلام کیا تھا
اس کے برعکس 2004 کی اصل رپورٹنگ میں طلاق کو بنیادی طور پر ایک ازدواجی اور جغرافیائی مسئلے کے طور پر بیان کیا گیا،عمران خان پاکستان میں اپنی سیاسی زندگی جاری رکھنا چاہتے تھے جبکہ جمائمہ کے لیے پاکستان میں مستقل زندگی گزارنا مشکل ثابت ہو رہا تھا
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ طلاق کے بعد دونوں کے تعلقات دشمنی میں تبدیل نہیں ہوئے،دستیاب سوانحی ریکارڈ کے مطابق جمائمہ اور عمران خان اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب رہے،عمران خان جب لندن میں اپنے بیٹوں سے ملنے جاتے تو اپنی سابقہ ساس لیڈی اینابیل گولڈسمتھ کے گھر بھی قیام کرتے تھے
یوں برسوں سے گردش کرنے والی کہانی میں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے،عوامی روایت میں اسے عمران خان کی غیر معمولی مالی اصول پسندی اور دولت سے بے نیازی کی علامت بنا دیا گیا، لیکن اصل ریکارڈ میں طلاق کے وقت ایسی کسی بڑی مالی پیشکش، اس کے انکار یا عدالت میں دولت کے نصف حصے کی تقسیم کا کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا
حقیقت شاید اس سے کہیں کم ڈرامائی مگر زیادہ انسانی تھی،9 سال کی شادی، 2 بچے، 2 مختلف ملکوں میں بنتی ہوئی زندگیاں اور ایک ایسا فیصلہ جسے دونوں نے اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کے لیے قبول کیا
اور شاید یہی اس داستان کا سب سے دلچسپ پہلو ہے کہ ایک عام طلاق، وقت گزرنے کے ساتھ، پاکستان کی سیاسی ثقافت میں ایک ایسی کہانی بن گئی جس میں دولت، اصول، قربانی اور کردار سب کچھ شامل کر دیا گیا، مگر جس کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے حصے کا ثبوت آج بھی تلاش کیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید