کینیڈا میں ’کیوبیکزٹ‘ کا خطرہ، علیحدگی پسند ایک بار پھر ریفرنڈم کی تیاری میں
کینیڈا کو کیوبیک کی ممکنہ علیحدگی کے ایک نئے خطرے کا سامنا ہے کیوبیک کی علیحدگی پسند جماعت پارٹی کیوبیکوا دوبارہ آزادی کے ریفرنڈم کی تیاری کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ صوبے کی فرانسیسی زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے کینیڈا سے علیحدگی ضروری ہے تاہم موجودہ رائے عامہ میں آزادی کی حمایت اب بھی 50 فیصد سے کم ہے
پارٹی کیوبیکوا، جو 5 اکتوبر کو ہونے والے صوبائی انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں آگے ہے، وعدہ کر چکی ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو چار سال کے اندر کیوبیک کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کرائے گی
کیوبیک تقریباً 90 لاکھ آبادی والا زیادہ تر فرانسیسی زبان بولنے والا صوبہ ہے وہاں زبان، ثقافت اور الگ شناخت کا تحفظ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں اہم مقام رکھتا ہے، تاہم پارٹی کیوبیکوا کا مؤقف ہے کہ صرف مکمل خودمختاری ہی کیوبیک کو کینیڈا میں فرانسیسی زبان کے بتدریج کم ہوتے اثر سے محفوظ رکھ سکتی ہے
کیوبیک کی آزادی کا سوال نیا نہیں۔ صوبے میں اس سے پہلے 1980 اور 1995 میں علیحدگی کے ریفرنڈم ہوچکے ہیں۔ 1995 کا ریفرنڈم انتہائی معمولی فرق سے کینیڈا کے حق میں ختم ہوا تھا، جب تقریباً 50.6 فیصد ووٹروں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے اور تقریباً 49.4 فیصد نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا
تاہم تین دہائیوں بعد کیوبیک کا سیاسی اور آبادیاتی منظرنامہ بدل چکا ہے نئی نسل کے ووٹروں کے لیے 1995 کا انتہائی قریب ریفرنڈم اب اتنی زندہ یاد نہیں، جبکہ امیگریشن اور آبادی میں تبدیلی نے کیوبیک کی سیاست کو بھی نئی شکل دی ہے
علیحدگی پسندوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر کیوبیک واقعی آزاد ملک بننے کی طرف بڑھتا ہے تو اسے کینیڈا کے موجودہ وفاقی قرض کا کتنا حصہ اپنے ذمے لینا ہوگا، نئی ریاست کے لیے قرض لینے کی لاگت کتنی بڑھے گی اور دفاع سمیت وہ اخراجات کس طرح پورے کرے گی جو اس وقت وفاقی حکومت برداشت کرتی ہے ماہرین کے مطابق علیحدگی کے معاشی اخراجات پارٹی کیوبیکوا کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں
یہ بحث ایسے وقت میں مزید حساس ہوگئی ہے جب کینیڈا کو جنوب میں امریکا کے ساتھ بھی ایک پیچیدہ سیاسی اور معاشی ماحول کا سامنا ہے کیوبیک کی آزادی کا محض ریفرنڈم بھی کینیڈا کی قومی وحدت کو کمزور کرسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد رہنے کی ضرورت ہے
تاہم موجودہ صورتحال کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ کیوبیک کی آزادی یقینی ہوچکی ہے۔ اصل خطرہ فی الحال ایک نئے ریفرنڈم کا ہے، نہ کہ فوری طور پر کینیڈا کے ٹوٹنے کا۔ علیحدگی پسند تحریک کو اب بھی عوام کی واضح اکثریت حاصل نہیں، لیکن اگر پارٹی کیوبیکوا صوبائی حکومت بناتی ہے تو آزادی کا سوال ایک مرتبہ پھر کینیڈا کی سیاست کے مرکز میں آسکتا ہے۔





